رسائی کے لنکس

logo-print

’پی آئی اے‘ میں ہڑتال کرنے والوں کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے: نواز شریف


’پی آئی اے‘ کی مجوزہ نجکاری کے باعث اس فضائی کمپنی کے ملازمین نے 26 جنوری سے جزوی احتجاج شروع کیا لیکن دو فروری سے تمام ’فلائیٹ آپریشن‘ معطل ہیں۔

پاکستان کی قومی فضائی کمپنی کے ملازمین کی مکمل ہڑتال چوتھے روز بھی جاری ہے اور جمعہ کو بھی تمام ہوائی اڈوں پر ’پی آئی اے‘ کی پروازیں معطل رہیں۔

جب کہ وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ہڑتال کرنے والوں کے سامنے حکومت سر نہیں جھکائے گی۔

’پی آئی اے‘ کے ترجمان دانیال گیلانی کے مطابق ہڑتال کے باعث قومی فضائی کمپنی کی 300 سے زائد پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں جب کہ اس دوران ہونے والے نقصان کا تخمینہ 2 ارب تک لگایا گیا ہے۔

’’دو فروری کی شام سے اب تک فلائیٹ آپریشن مکمل طور پر بند ہے جس کی وجہ سے مجموعی طور پر دو ارب روپے سے زیادہ کا نقصان ہو چکا ہے اور 300 سے زیادہ فلائیٹس منسوخ ہو چکی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ نقصان میں مزید اضافہ ہو گا لوگوں کا پی آئی اے پر اعتماد کم ہوتا جائے گا‘‘۔

اُدھر جمعہ کو پاکستان کے وزیرِاعظم نواز شریف نے کہا کہ حکومت ’پی آئی اے‘ میں اصلاحات کر کے اس میں بہتری کی خواہاں ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ہڑتال کرنے والوں کے سامنے حکومت سر نہیں جھکائے گی۔

’’عوام نے مینڈیٹ ہمیں دیا ہے حکومت کو، حکومت کا بھرپور یہ فیصلہ ہے کہ ہم اپنے اداروں کو ٹھیک کریں اور ہم کسی ہڑتال وغیرہ کے آگے اس طرح کی غیر قانونی ہڑتال، بلا جواز ہڑتال اس کے آگے سر نہیں جھکائیں گے اور ہماری بھرپور کوشش ہو گی کہ ہم اپنے ملک کے اندر اپنی ائر لائنز کو ٹھیک کریں۔‘‘

وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ بعض سیاسی جماعتیں محض سیاست کی خاطر ہڑتال کرنے والوں کا ساتھ دے رہی ہیں۔

’پی آئی اے‘ کی مجوزہ نجکاری کے باعث اس فضائی کمپنی کے ملازمین نے 26 جنوری سے جزوی احتجاج شروع کیا تھا لیکن دو فروری سے تمام ’فلائیٹ آپریشن‘ معطل ہیں۔

احتجاج میں شدت گزشتہ منگل سے آئی جب کراچی میں احتجاج کے دوران گولی چلنے سے ’پی آئی اے‘ کے دو ملازمین ہلاک ہو گئے۔

موقع پر موجود پولیس اور رینجرز دونوں نے کہا کہ اُن کی طرف سے گولی نہیں چلائی گئی۔

’پی آئی اے‘ ملازمین کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مرکزی رہنما صفدر انجم نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ جب تک حکومت قومی فضائی کمپنی کی نجکاری کا فیصلہ واپس نہیں لیتی اُن کا احتجاج جاری رہے گا۔

اُدھر ’پی آئی اے‘ نے اندرون ملک اپنے مسافروں کے لیے دو نجی فضائی کمپنیوں سے معاہدہ کیا لیکن اطلاعات کے مطابق ایسے مسافر جنہوں نے پہلے سے ’پی آئی اے‘ کے ٹکٹ خرید رکھے ہیں انھیں اس سلسلے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

بیرون ملک خاص طور پر عمرہ کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب میں موجود پاکستانیوں کی وطن واپسی کے لیے بھی ’پی آئی اے‘ کی طرف سے متبادل انتظامات کیے گئے ہیں۔

حالیہ ہڑتال کے باعث جہاں حکومت کو مالی نقصان اٹھانا پڑا وہیں مسافر بھی شدید مشکلات سے دوچار ہیں خاص طور پر ایسے مسافر جو خلیجی ممالک میں ملازمت کرتے ہیں اور انھیں اپنے ویزے کی معیاد ختم ہونے سے قبل وہاں پہنچنا ہے۔

XS
SM
MD
LG