رسائی کے لنکس

logo-print

دہشت گردی اور رقوم کی غیرقانونی منتقلی مہذب دنیا کے لیے خطرہ


اسلام آباد میں منعقدہ تین روزہ بین الاقوامی جوڈیشل کانفرنس کی اختتامی تقریب سے اتوار کو خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ دہشت گردی اور رقوم کی غیر قانونی منتقلی مہذب دنیا کے لیے شدید خطرے کا باعث ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے پاکستان میں رائج قوانین کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ بین الاقوامی کانفرنس میں اس بات کا اعادہ کیا گیا ہے کہ تمام متعلقہ اداروں بالخصوص قانون نافذ کرنے والے اداروں، سرکاری وکلاء اور اس نوعیت کے مقدمات کی ابتدائی سماعت کرنے والے جج صاحبان کو ان جرائم سے نمٹنے کے لیے ضروری تربیت اور وسائل مہیا کیے جائیں۔

اُنھوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ناصرف پاکستانیوں نے بڑی تعداد میں جانی قربانیاں دیں بلکہ اس سے ملک میں املاک کو بھی شدید نقصان پہنچا۔

پاکستان میں زیر حراست مبینہ دہشت گردوں کو عدالتوں سے سزائیں دلوانے کے لیے قوانین کے موثر نفاذ کے علاوہ جج اور گواہوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔

اراکین پارلیمان اور آئینی ماہرین ان خدشات کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ دہشت گردی کے مقدموں میں ملوث ملزمان کو موجودہ قوانین کے تحت قرار واقعی سزا دلوانا ایک مشکل عمل ہے کیوں کہ عدالت گواہوں اور ٹھوس شواہد کا تقاضا کرتی ہے اور ایسے مقدمات میں عموماً گواہان شہادت دینے سے کتراتے ہیں۔

حالیہ برسوں کے دوران ملک کے شمال مغربی علاقوں خصوصاً وادی سوات اور افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی پٹی میں فوجی آپریشن کے دوران سینکڑوں کی تعداد میں مشتبہ جنگجوؤں کو حراست میں لیا گیا ہے اور اُن پر مقدمات بھی چلائے جا رہے ہیں لیکن تاحال کسی سرکردہ شدت پسند کو سزا نہیں مل سکی ہے۔

پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت کا کہنا ہے کہ انسداد دہشت گردی کے خلاف ترمیم شدہ قانون کو جلد پارلیمان سے منظور کروایا جائے گا تاکہ زیرحراست مشتبہ شدت پسندوں کو عدالتوں سے سزا دلوائی جا سکے۔

XS
SM
MD
LG