رسائی کے لنکس

logo-print

انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی نگرانی نہیں کی جا رہی: پی ٹی اے


پاکستان میں کروڑوں افراد موبائل فون اور انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں۔

پاکستان میں ٹیلی مواصلات کے ایک نگران ادارے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ایک امریکی آن لائن میگزین میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کو مسترد کر دیا ہے کہ حکومت نے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی نگرانی کے لیے غیر ملکی کمپنی کی خدمات حاصل کی ہیں۔

اس حکومتی اقدام پر مختلف طبقات کی جانب سے سولات اٹھائے جا رہے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ اس سے انٹرنیٹ صارفین کی شخصی آزادی محدود ہونے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

جمعے کو وائس آف امریکہ کو پی ٹی اے کے ترجمان خرم مہران نے بتایا کہ پاکستان میں ٹیلی کام کی صنعت میں سروسز فراہم کرنے والی لائسنس یافتہ کمپنیوں کو پی ٹی اے نے 2017 میں کہا تھا کہ وہ ایک ایسا مناسب نظام نصب کریں جو انٹرنیٹ کی سرگرمیوں کی نگرانی اور تجزیہ کرنے کی اہلیت رکھتا ہو۔

پی ٹی اے کے ترجمان نے بیان میں مزید وضاحت کہ یہ اقدام پاکستان کی عدالت عظمیٰ اور عدالت عالیہ کے فیصلوں کے تحت کیا گیا جن کے تحت پاکستان کی سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ نے الگ الگ مقدمات میں دیے گئے فیصلوں میں پی ٹی اے کو ایسا تکنیکی نظام نصب کرنے کی ہدایت کی تھی جو انٹرنیٹ پر غیر قانونی ٹریفک کی روک تھام کر سکے۔

تاہم پی ٹی اے کے ترجمان نے اس تاثر کو مسترد کر دیا کہ ویب کی نگرانی کا نظام شخصی پرائیویسی یا انٹرنیٹ کی صارفین کے آزادی کو محدود کر دے گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ نظام انٹرنیٹ کے ذریعے مبینہ غیر قانونی ٹریفک کی روک تھام میں معاون ہو گا جس کی وجہ سے ان کے بقول قومی خزانے کو نقصان ہو رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس نظام کے تحت ویب سرگرمیوں کی نگرانی کے عمل صرف پی ٹی اے ہی متعلقہ قوانین کے تحت انجام دینے کی مجاز ہو گی۔

تاہم رواں سال مئی میں ایک تحریری سوال کے جواب میں حکام نے سینیٹ کو آگاہ کیا تھا کہ پی ٹی اے نے انٹرنیٹ پر سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے کسی کمپنی سے کوئی براہ راست معاہدہ نہیں کیا نہ ہی اس پر سرکاری وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں۔

آن لائن میگزین 'کوڈا' کی رپورٹ کے مطابق اس سلسلے میں معاہدہ دسمبر 2018 میں کیا گیا اور اس کی مالیت ایک کروڑ 85 لاکھ ڈالر ہے۔

اس معاہدے پر کئی فریقوں نے دستخط کیے ہیں جن میں پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی اور ان بکس بزنس ٹیکنالوجیز شامل ہیں جو پاکستان میں سینڈوائن کی نمائندہ کے طور پر کام کر رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق نگرانی کے اس نظام کے لیے ڈی پی آئی یعنی ڈیپ پیکٹ انسپیکشن کا نظام استعمال کیا جائے گا جس سے نہ صرف انٹرنیٹ سرگرمیوں کی نگرانی کی جاسکے گی بلکہ انھیں ریکارڈ بھی کیا جاسکے گا۔

پاکستان میں 2010 میں بنائے گئے ایک قانون کے تحت حکومت کو ویب ٹریفک کی نگرانی اور بندش کا اختیار حاصل ہے۔ پاکستان میں ستمبر 2012 میں یوٹیوب پر پابندی لگائی گئی تھی جو تین سال بعد جنوری 2016 اٹھائی گئی۔ اس وقت بھی پاکستان میں ہزاروں ویب سائٹس بند ہیں جن میں وائس آف امریکہ اردو کی ویب سائٹ بھی شامل ہے۔

وفاقی وزیر اعظم سواتی سینیٹ کو بتاچکے ہیں کہ پی ٹی اے نے سینڈوائن اور ان بکس ٹیکنالوجیز سے نامناسب مواد کی نگرانی کے لیے آلات فراہم کرنے کے لیے کہا ہے۔ لیکن انھوں نے واضح کیا تھا کہ اس کام کے لیے قومی خزانے سے کوئی پیسہ ادا نہیں کیا گیا۔ اس کے برعکس فروری 2016 میں پی ٹی اے کے جاری کردہ ایک ٹینڈر سے پتا چلتا ہے کہ سینڈوائن کئی سال پہلے بھی پاکستان کو خدمات فراہم کررہی تھی۔

پی ٹی اے کے مطابق 9 لاکھ 25 ہزار ویب سائٹس پاکستان میں بند کی جاچکی ہیں۔ ان پر غیر اخلاقی، ملک دشمن، فرقہ واریت پر مبنی یا نفرت انگیز مواد ہونے کا الزام تھا۔ ان کے علاوہ 10 ہزار پروکسی ویب سائٹس کو بھی بلاک کیا جاچکا ہے۔

بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس سے غیر اخلاقی اور نفرت انگیز مواد والی ویب سائٹس کے ساتھ ساتھ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ مخالف آوازوں کو خاموش کروانا اور بھی آسان ہو جائے گا۔ گزشتہ سال بائیں بازو کی عوامی ورکرز پارٹی کی ویب سائٹ اس کا نشانہ بن چکی ہے۔

صحافتی آزادیوں پر نظر رکھنے والی تنظیم فریڈم ہاؤس نے اس سال جاری کی گئی رپورٹ میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا تھا کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی یا پی ٹی اے کے پاس انٹرنیٹ مواد کی روک ٹوک کے لیے حد سے زیادہ اختیارات ہیں۔ فریڈم ہاؤس کے مطابق اس کے پاس شواہد ہیں کہ پاکستان میں سرکاری طور پر سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کی بڑے پیمانے پر نگرانی کی جاتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG