رسائی کے لنکس

logo-print

'سیاسی جماعتوں نے آگ پر تیل ڈالنے کا کام کیا'


فیض آباد دھرنے کے خلاف پولیس آپریشن کا ایک منظر

وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال پر فائرنگ کے واقعے اور اس میں ملوث شخص کی ایک سخت گیر موقف رکھنے والی مذہبی و سیاسی جماعت 'تحریک لبیک پاکستان' کے حامی ہونے کی اطلاعات نے ملک میں عدم برداشت اور انتہا پسندی پر بحث کو ایک بار پھر برانگیخت کر دیا ہے۔

مذکورہ حملہ آور کے اس اعترافی بیان پر کہ اس نے یہ قدم قانون سازوں کے لیے حلف نامے میں ختم نبوت سے متعلق شق کی تحریف میں احسن اقبال کے مبینہ کردار کی وجہ سے اٹھایا، پاکستان میں خاص طور پر مذہب کے نام پر پائی جانے والی عدم برداشت کی ایک تازہ مثال سامنے آ گئی ہے۔۔

رواں سال مارچ میں سابق وزیراعظم نواز شریف پر ایک مدرسے میں ہونے والی تقریب کے دوران ایک شخص نے جوتا پھینکا اور پھر لبیک یارسول اللہ کا نعرہ بلند کیا۔ اس سے چند روز قبل احسن اقبال کے ساتھ بھی نارروال میں ہی ایک تقریب میں خطاب کے دوران ایسا ہی واقعہ پیش آ چکا تھا۔

گو کہ احسن اقبال سمیت حکومت کے دیگر عہدیداران تواتر سے یہ کہتے آئے ہیں کہ ختم نبوت پر کوئی مسلمان سمجھوتہ نہیں کر سکتا لیکن تحریک لبیک پاکستان کی طرف سے اس معاملے کو لے کر اشتعال انگیز بیانات سامنے آتے رہے ہیں۔

یہ جماعت ممتاز قادری کی بھی اس بنا پر بھرپور حمایت کرتی رہی کہ اس نے پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کو توہین مذہب کے قانون میں ترمیم کے بیان پر قتل کیا تھا۔

توہین مذہب کے معاملے پر ایسے کئی واقعات رونما ہو چکے ہیں جہاں لوگوں نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کی جن میں اکثر مہلک اور تباہ کن بھی ثابت ہوئے۔

احسن اقبال پر فائرنگ کے واقعے کی ملک کی تقریباً سب ہی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی طرف سے مذمت کی جا رہی ہے لیکن سرگرم سماجی کارکن جبران ناصر کہتے ہیں کہ مذہب، فقہ، زبان اور نسلی بنیاد پر لوگوں کو عدم تحفظ کا شکار بنایا جاتا رہا ہے اور سیاستدانوں کی طرف سے بھی ان کے بقول اس آگ میں تیل چھڑکا جاتا رہا ہے۔

پیر کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ "اس آگ میں تمام ہی سیاسی جماعتوں نے تیل ڈالنے کا کام کیا ہے۔ ممتاز قادری کے جنازے میں سراج الحق صاحب پیش پیش تھے، فیض آباد میں ختم نبوت سے متعلق جو معاملہ اٹھا تھا اس میں بار ہار عمران خان دوستانہ یقین دہانی کرواتے رہے کہ رپورٹ سامنے نہیں آ رہی۔ اس آگ کے اندر تیل ڈالنے کا کام خود نواز شریف صاحب کے داماد محمد صفدر بھی بطور قانون ساز کرتے رہے ہیں۔"

محمد صفدر حالیہ مہینوں میں ملک میں آباد احمدی برادری کے خلاف خاصے تندوتیز بیانات دے چکے ہیں۔

جبران ناصر کا کہنا ہے کہ سیاست دانوں کو یہ فیصلہ کرنا تھا کہ سیاست کا طرز عمل کیا ہونا چاہیے۔

"لوگوں کی جنس ہو، عقیدہ ہو نسلی پس منظر ہو مذہبی پس منظر ہو ذاتی زندگی کی عادات ہوں، ہم نے اس کو سیاست میں لا کر نشانہ بنانا شروع کر دیا۔۔۔یہ پارلیمنٹرینز کو فیصلہ کرنا تھا کہ سیاست کس طرز پر ہو گی، کس طرز پر نہیں ہو گی۔ آپ اگر ترقی کے ایجنڈے سے ہٹ کر ان معاملات پر سیاست کرنا چاہتے ہیں تو قوم کا مستقبل یہی ہے ۔"

غیر جانبدار حلقے خصوصاً سماجی ہم آہنگی کے لیے کام کرنے والے سرگرم کارکنان ایسے خدشات کا تواتر سے اظہار کرتے آ رہے ہیں کہ پاکستان میں خاص طور پر سیاست دانوں اور قانون سازوں کی طرف سے تعصب اور تنگ نظری کے معاشرے پر بہت مضر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

تحریک لبیک پاکستان کی طرف کہا گیا ہے کہ وہ احسن اقبال پر حملے کی قطعاً ذمہ دار نہیں اور اس جماعت کے ایک سرکرہ رہنما افضل قادری نے ایک وڈیو بیان میں کہا کہ وزیرداخلہ خود اس کے ذمہ دار ہیں جنہوں نے ان کے بقول غیر ذمہ دارانہ بیانات دئے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG