رسائی کے لنکس

ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف تین روزہ دورے پر پاکستان میں ہیں جہاں اُن کی ملاقاتوں کا محور دوطرفہ تجارتی اور اقتصادی روابط کو وسعت دینا ہے۔

وزیر خارجہ جواد ظریف اتوار کی شب 30 رکنی وفد کے ہمراہ اسلام آباد پہنچے تھے جہاں اُنھوں نے پیر کو وزیر خارجہ خواجہ آصف سے وفود کی سطح پر مذاکرات کے علاوہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے بھی ملاقات کی۔

جواد ظریف کے ہمراہ آنے والے وفد میں ایران کی اعلیٰ کاروباری شخصیات بھی شامل ہیں اور اس دورے میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورت حال پر بات چیت کے علاوہ تجارت کو بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

بعد میں دونوں وزرائے خارجہ نے پاک ایران بزنس فورم سے بھی خطاب کیا جس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ دوطرفہ تجارت کو 2021 تک پانچ ارب ڈالر تک بڑھایا جائے گا۔

پاکستان اور ایران کے درمیان اس وقت دوطرفہ تجارت کا حجم لگ بھگ ایک ارب ڈالر ہے جس میں اضافے کے لیے گزشتہ کئی سالوں سے کوشش کی جا رہی ہے لیکن اس میں کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ نے اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب میں کہا کہ اُنھیں توقع کہ دونوں ملکوں کے درمیان ترجیحی تجارتی روابط، آزاد تجارت میں بدلیں گے۔

پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے اپنے ایرانی ہم منصب سے ملاقات کے بعد سرکاری ٹیلی ویژن سے گفتگو میں کہا کہ بات چیت میں افغانستان کی صورت حال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

’’افغانستان کے بارے میں یہ ہی طے پایا ہے کہ افغانستان کو اپنے ہمسایوں کی طرف سے جو بھی سہولت مہیا کی جا سکتی ہے کہ وہ اپنے اندرونی معاملات سے کس طرح نمٹ سکے اس میں ایران پاکستان اور دوسرے جو ہمسائے ہیں افغانستان کے وہ ایک مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں اور جب بھی افغانستان کو ضرورت پڑے کہ اس کے ہمسائے کردار ادا کریں تو ہم بالکل تیار ہیں۔‘‘

اسلام آباد میں اعلیٰ حکومتی عہدیداروں سے ملاقاتوں کے بعد ایران وزیر خارجہ پاکستان کے اقتصادی شہر کراچی بھی جائیں گے جہاں اُن کی کاروباری برداری سے ملاقاتیں طے ہیں۔

پاکستانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ دورہ دونوں ملکوں کے درمیان روابط کی ایک کڑی ہے اور اس کا مقصد دوطرفہ تعاون کو وسط دینا ہے۔

اسلام آباد میں قائم انسٹیٹویٹ آف اسٹراٹیجک اسٹیڈیز سے وابستہ نجم رفیق کہتے ہیں کہ ایران نے حال ہی میں اپنی تجارتی بندرگاہ کے حوالے سے بھارت سے ایک معاہدہ کیا ہے اور اُن کے بقول ایرانی وزیر خارجہ اس بارے میں بھی پاکستانی حکام کو اعتماد میں لیں گے۔

’’وہ ایسے موقع پر آئے ہیں جب کہ چاہ بہار بندرگاہ ایران نے بھارت کے حوالے کی ہے تو شاید پاکستان کو باور کرائیں گے کہ پاکستان ایران تعلقات میں ان چیزوں کا کوئی اثر نہیں ہو گا۔‘‘

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ چا بہار اور گوادر کی بندر گاہوں کو ایک دوسرے کے مقابلے میں نہیں دیکھنا چاہیئے بلکہ اُن کے بقول یہ ایک دوسرے سے تعاون کے لیے ہیں۔

رواں سال کے اوائل میں پاکستان اور ایران کے حکام نے دونوں ملکوں کے درمیان مسافر اورمال بردار ریل گاڑیاں چلانے کا فیصلہ کیا تھا لیکن تاحال ریل کے ذریعے رابطے بحال نہیں ہوئے ہیں۔

ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق عائد بیشتر عالمی پابندیاں 2017 کے اوائل میں ہٹائے جانے کے بعد پاکستان کے مرکزی بینک نے تمام کمرشل بینکوں اور مالیاتی اداروں کو ایران کے ساتھ لین دین کی اجازت دے دی ہے جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے فروغ کے امکانات مزید بڑھ گئے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG