رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان میں ’دولت اسلامیہ‘ کے وجود کی کوئی حقیقت نہیں: چوہدری نثار


چوہدری نثار نے ہفتہ کو کہا کہ بعض لوگ بغیر کسی ثبوت ایسے بیانات دے کر پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے ایک بار پھر کہا ہے کہ شدت پسند تنظیم ’دولت اسلامیہ‘ کا پاکستان میں اس وقت کوئی وجود نہیں ہے۔

چوہدری نثار نے ہفتہ کو کہا کہ بعض لوگ بغیر کسی ثبوت ایسے بیانات دے کر پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

دولت اسلامیہ شام اور عراق کے کئی علاقوں پر قابض ہے جس کے خلاف امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک برسرپیکار ہیں۔

چوہدری نثار کا بھی کہنا تھا کہ اس تنظیم کی تمام تر کارروائیاں عرب ممالک میں ہی ہیں۔

’’میں ایک بار پھر اس بات کو دہراتا ہوں جو میں نے پہلے کہی کہ (دولت اسلامیہ) یعنی آئی ایس آئی ایس ایک عرب بیسڈ تنظیم ہے اس کا پاکستان میں اس وقت تک وجود نہیں ہے، مجھے نہیں معلوم اچھے بھلے سیاسی لوگ صرف فقرہ بازی کے لیے صرف حکومت کو نیچا دیکھانے کے لیے اس بات پر کیوں بضد ہیں کہ پاکستان میں (دولت اسلامیہ) کا کوئی وجود ہے، اس تنظیم کا وجود نہیں ہے ۔۔۔۔ ہاں یہاں چند شدت پسند تنظیموں نے ان کا نام استعمال کیا ہے۔‘‘

حال ہی میں پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے علاوہ لاہور اور کئی دیگر علاقوں میں دولت اسلامیہ کی حمایت میں دیواروں پر تحریروں کے بعد ملک میں اس تنظیم کی موجودگی کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہوا۔

تاہم اس کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ ’’ وال چاکنگ کی ہے، یہ تو کوئی مشکل کام نہیں ہے۔۔۔۔ میری گزارش ہے ان تمام عناصر سے جو (دولت اسلامیہ کے حوالے سے) روز بیان بازی کرتے ہیں، یہ ملک و قوم کے مفاد میں نہیں ہے۔ پاکستان پہلے ہی بدنام ہے کہ دنیا کی شدت پسند تنظیمیں یہاں وجود رکھتی ہیں جو وجود نہیں رکھتیں، آپ پاکستان کو اس کے ساتھ جوڑنا کیوں چاہتے ہیں۔‘‘

حال ہی میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سابق مرکزی ترجمان شاہد اللہ شاہد اور اس تنظیم کے پانچ دیگر اہم کمانڈروں نے دولت اسلامیہ سے وفاداری اور اس کے سربراہ ابو بکر البغدادی کی خلافت کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

واضح رہے کہ تحریک طالبان پاکستان شاہد اللہ شاہد کو ترجمان کی حیثیت سے برطرف کر چکی ہے۔

چوہدری نثار نے ایک بار پھر کہا کہ پاکستان سے دہشت گردوں کو مکمل طور پر ختم کیا جائے گا۔

’’پاکستان کے تمام سکیورٹی ادارے کہہ چکے ہیں، فوجی بھی اور سویلین حکومت بھی، کہ ہماری تمام تر توجہ اور کارروائی اس بات پر ہو گی کہ نہ صرف (دولت اسلامیہ) بلکہ وہ تمام باقی عناصر جو عسکریت پسندی پر یقین رکھتے ہیں، ان کا راستہ روکا جائے اور ان کو مکمل طور پر پاکستان سے ختم کیا جائے۔‘‘

فوج نے شدت پسندوں کے مضبوط گڑھ شمالی وزیرستان میں 15 جون سے ’ضرب عضب‘ کے نام سے کارروائی شروع کر رکھی ہے جس میں اب تک 1200 سے زائد ملکی و غیر ملکی شدت پسند ہلاک ہو چکے ہیں۔

گزشتہ ماہ خیبر ایجنسی میں بھی ’خیبر ون‘ کے نام سے ایک آپریشن شروع کیا گیا جس میں حکام کے مطابق اب تک بیسیوں عسکریت پسند مارے جا چکے ہیں۔ ایک روز قبل بھی خیبر ایجسنی میں کی گئی فضائی کارروائی میں فوج کے مطابق 22 شدت پسند ہلاک ہو گئے تھے۔

ان قبائلی علاقوں تک میڈیا کو رسائی نہیں اس لیے آزاد ذرائع سے ہلاکتوں کی تعداد کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

XS
SM
MD
LG