رسائی کے لنکس

صحافیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک بین الاقوامی تنظیم ’رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز‘ نے سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ اگرچہ پاکستان میں صحافیوں پر قاتلانہ حملوں کی تعداد میں کمی آئی ہے، لیکن تنظیم کے مطابق اب بھی انتہا پسندوں، دینی جماعتوں اور انٹیلی جنس اداروں کی طرف سے صحافیوں کو خطرات لاحق ہیں۔

نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے جنرل سیکرٹری شکیل انجم نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان میں اب بھی صحافیوں کو مسلسل خطرات کا سامنا رہتا ہے۔

’’دہشت گردی کے واقعات میں کمی ضرور واقع ہوئی ہے لیکن (صحافی) ٹارگٹ ابھی تک ہو رہے ہیں۔ میں نہیں سمجھتا کہ اس رجحان میں کمی ہوئی ہے اور دہشت گردی سے ہٹ کر کوئی سیاسی پارٹیاں یا کوئی مذہبی پارٹیاں صحافیوں کو نشانہ نہیں بنا رہیں۔‘‘

شکیل انجم نے کسی ادارے کا نام لیے بغیر کہا کہ صحافیوں اور میڈیا کو سینسر شپ کا بھی سامنا رہتا ہے۔

’’یہ جو ادارے سینسر شپ لگا رہے ہیں یہ انتہائی تشویش ناک ہے ۔ اس کی مثالیں موجود ہیں۔ وہ اثر و رسوخ ڈال کر زبانیں بند کر دیتے ہیں۔ اسکرین بند کر دیتے ہیں اور اس کے علاوہ یہ جو دھمکیاں ہوتی ہیں، بندے اٹھائے جاتے ہیں، ان کو نشانہ بنایا جاتا ہے، یہ وہ طریقہ ہے جس میں خوف پھیلا کر (سینسر شپ عائد کی جاتی ہے)۔‘‘

تاہم اُنھوں نے کہا کہ میڈیا کو خود احتسابی کا عمل جاری رکھنا چاہیئے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن کے چیئرمین اسلم بودلا نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ صحافیوں پر کسی طرح کا دباؤ نہیں ہونا چاہیئے اور ’’ایسا کوئی شائبہ بھی نہیں ہونا چاہئیے کہ ان پر کوئی ایسی قدغن لگائی جا سکتی ہے یا ان پر خدانخواستہ ایسے حملے ہو سکتے ہیں۔‘‘

اُنھوں نے کہا کہ ’’حکومت اس سے بخیروخوبی آگاہ ہے اور فکرمند ضرور ہے کہ ایسا نہیں ہونا چاہیئے۔‘‘

اسلم بودلا نے کہا کہ سینسر یقیناً باعث تشویش ہے، ’’جی ہاں! یقیناً پوری دنیا میں یہ باعث تشویش ہے اور پاکستان میں بھی اسی طرح باعث تشویش ہے کہ کسی سطح پر بھی صحافیوں پر ان کی روزمرہ پیشہ ورانہ خدمات میں کوئی پابندی نہیں ہونی چاہیئے۔ اس میں آزادی ہونی چاہیئے۔‘‘

اسلم بودلا نے کہا کہ قائمہ کمیٹی صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے آواز بلند کرتی رہی ہے۔

پاکستان میں صحافیوں کی ایک نمائندہ تنظیم ’پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس‘ کے مطابق ملک میں سال 2000ء کے اوائل سے اب تک 120 صحافی مارے جا چکے ہیں۔

پاکستان میں صحافیوں کی نمائندہ تنظیمیں یہ مطالبہ کرتی رہی ہیں صحافیوں پر حملہ کرنے اور اُنھیں قتل کرنے والوں کے خلاف مقدمات کی جلد سماعت کے لیے حکومت ٹربیونل قائم کرے کیونکہ اب تک ملک میں محض دو صحافیوں کے قتل کے مقدمات آگے بڑھ سکے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG