رسائی کے لنکس

logo-print

حزب اختلاف کی جماعتوں کا کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا مطالبہ


حزب اختلاف کی جماعتوں کا کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا مطالبہ

پاکستانی پارلیمان کے دونوں ایوان میں ان دنوں نئے مالی سال کے بجٹ پر بحث جاری ہے لیکن پچھلے چند روز کے دوران حزب اختلاف کی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اراکین نے متنازع کالا باغ ڈیم تعمیر کرنے کا مطالبہ شروع کر رکھا ہے جو اُن کے بقول ملک کو درپیش توانائی کے بحران سے نمٹنے کا بہترین حل ہے۔

جمعرات کو سینٹ کے اجلاس میں حکمران اتحاد میں شامل عوامی نیشنل پارٹی کے اراکین نے ان مطالبات کی مذمت کی جس کے بعد اس ڈیم کے حامی اور مخالف اراکین سینٹ میں تلخ کلامی بھی ہوئی ۔ صوبہ خیبر پختون خواہ میں برسراقتدار عوامی نیشنل پارٹی کالا باغ ڈیم کی تعمیر کی سخت مخالف کرتی آئی ہے ۔ جب کہ سندھ اور بلوچستان کی صوبائی اسمبلیوں نے بھی اس منصوبے کے خلاف مذمتی قراردادیں منظور کر رکھی ہیں۔

حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے اراکین کاموقف ہے کہ کئی سال پرانے اس منصوبے پر صوبوں میں اختلافات کے باعث آج تک کام شروع نہیں ہوسکا ہے اور اُن کے بقول کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا موجودہ حالات میں مطالبہ کرنا صوبوں میں اس معاملے پرمنافرت کا باعث بن سکتاہے۔

پارلیمنٹ میں اس مسئلے پر یہ بحث ایک ایسے وقت ہورہی ہے جب پاکستان اور امریکہ کے درمیان طویل المدتی شراکت داری کے لیے مارچ میں ہونے والے اسٹریٹیجک ڈائیلاگ کے تحت توانائی کے شعبے میں تعاون کے فروغ کے لیے دو روزہ بات چیت کا آخری دور جمعرات کواسلام آباد میں ہوا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے پاک امریکہ مذاکرات کے اس دو ر کو مفید قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے تقریباً 30 ایسے منصوبوں کی نشاندہی کی ہے جو توانائی کے بحران سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG