رسائی کے لنکس

logo-print

پلاسٹک آلودگی بڑھنے کے خطرات


(فائل فوٹو)

پلاسٹک سے بنی اشیاء ہماری ہوا، مٹی اور پانی سب کو آلودہ کر رہی ہیں۔ بلکہ وہ ہماری غذائی اشیاء کو بھی آلودہ کرنے کا سبب بن رہی ہیں۔ بات صرف یہیں تک محدود نہیں ہے بلکہ پلاسٹک اور اس کی مصنوعات کرہ ارض کے ماحولیاتی نظام کو بھی متاثر کر رہی ہیں۔

یہ مسئلہ ایک گھمبیر شکل اختیار کر چکا ہے جس کے حل کے لیے مربوط اور فعال کوششوں کی ضرورت ہے۔ حال ہی میں ورلڈ وائلڈ لائف اور آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف نیو کیسل میں ہونے والی ایک ریسرچ میں اس مسئلے کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔

اس تحقیق کے مطابق، ہر آدمی ہفتے میں تقریباً پانچ گرام پلاسٹک نگل جاتا ہے جو کہ ایک کریڈٹ کارڈ کے وزن کے برابر ہے۔ اس طرح یہ مقدار ایک مہینے میں 21 گرام اور ایک سال میں ڈھائی سو گرام تک پہنچ جاتی ہے۔

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ پلاسٹک کی آلودگی سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں، تاکہ زمین کے نظام کو مزید آلودہ ہونے سے بچایا جا سکے۔

پاکستان میں ہونے والی ایک اور ریسرچ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کراچی کے ساحلی علاقے کلفٹن میں ایک گرام ریت میں مائیکرو پلاسٹک کے 300 سے زائد ذرات پائے گئے ہیں۔ یہ تعداد آبی حیات کے ساتھ ساتھ انسانوں کے لیے بھی خطرے کی علامت ہے۔

کراچی میں یومیہ 14 ہزار ٹن سے زائد کچرا پیدا ہوتا ہے جس میں سے صرف 8 ہزار ٹن کچرا ہی صحیح طریقے سے ٹھکانے لگایا جا رہا ہے۔ باقی پانچ سے چھ ہزار ٹن کچرا شہر کے ندی نالوں میں یا پھر کھلے مقامات پر پڑا رہتا ہے۔ ندی نالوں کے ذریعے سمندر میں پہنچنے والے کچرے میں شامل پلاسٹک بالآخر مچھلیوں کی غذا بن جاتا ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے ٹیکنیکل ایڈوائزر برائے میرین فشریز محمد معظم خان کے مطابق سمندر میں جانے والا پلاسٹک مچھلیوں کی خوراک بننے کے بعد فوڈ چین کے ذریعے انسانوں تک پہنچ جاتا ہے۔ ان کے مطابق، پلاسٹک کے ٹکڑوں سے کیڑے مار ادویات اور زہریلی جڑی بوٹیاں چپکی رہ جاتی ہیں جو کینسر جیسے موذی امراض کا باعث بنتا ہے۔

آبی آلودگی پر ریسرچ کرنے والے اور کراچی پورٹ ٹرسٹ سے منسلک محقق فیاض رسول کا کہنا ہے کہ پلاسٹک آبی آلودگی پھیلانے کا بڑا ذریعہ ہے جس کے حل کے لیے پالیسی اور کمیونٹی لیول پر مربوط حکمت عملی کے ساتھ کام کی اشد ضرورت ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ پلاسٹک کے نقصانات سے تحفظ کے لیے ماحولیاتی قوانین میں کسی قسم کی کوئی گنجائش رکھی ہی نہیں گئی جب کہ معاشرے میں بھی اس سلسلے میں مناسب شعور موجود نہیں۔

فیاض رسول کے مطابق فوٹولیزس (سورج کی روشنی سے ہونے والے کیمیائی عمل) سے گزرنے کے بعد بھی پلاسٹک میں شکست و ریخت نہیں ہوتی اور اپنی اصل حالت میں بحال رہتا ہے، جب کہ ڈسپوزایبل پلاسٹک کا بڑھتا ہوا استعمال ایک نیا چیلنج بن کر سامنے آ گیا ہے۔ ان کے مطابق، ہمیں یہ شعور اجاگر کرنا ہو گا کہ پلاسٹک چاہے وہ کسی بھی شکل میں ہو، ہمیں اس کا استعمال بہت محدود کرنا ہو گا۔ انہوں نے بتایا کہ ابھی ہمارے پاس یہ ڈیٹا موجود نہیں ہے جس سے یہ معلوم ہو سکے کہ کراچی سے بحر ہند میں جانے والی آبی آلودگی میں پلاسٹک کی کتنی مقدار شامل ہے۔

اس تحقیق سے یہ بھی پتا چلا ہے کہ پلاسٹک کی آلودگی ایک گھمبیر مسئلہ بن چکا ہے جو لوگوں کو براہ راست متاثر کر رہا ہے۔ انسانوں کی فوڈ چین کا حصہ بننے اور اس سے موذی امراض پھیلنے کے باوجود اب تک عالمی سطح پر غیر موثر جواب ہی ملا ہے۔

ادھر ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ ملک کے 10 بڑے شہروں جن میں کراچی، لاہور اور اسلام آباد بھی شامل ہیں، پلاسٹک کی آلودگی کے خلاف شعور اجاگر کرنے کے لیے نئی حکمت عملی کے تحت کام شروع کرنے جا رہی ہے۔ جس کا مقصد پلاسٹک سے ہونے والی آبی آلودگی میں کمی لانا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق ہر سال دنیا بھر میں آٹھ ملین میٹرک ٹن پلاسٹک کا اضافہ ہو رہا ہے۔ جب کہ پاکستان میں پلاسٹک سے وابستہ صنعت 15 فیصد سالانہ کی رفتار سے بڑھ رہی ہے۔ اور کراچی کے تمام ساحل پر پائے جانے والے کچرے میں پلاسٹک کی مقدار پچاس فیصد بتائی جاتی ہے۔ نہ صرف کراچی بلکہ گوادر، جیوانی، اور بلوچستان کے دیگر چھوٹے ساحلی مقامات پر بھی پلاسٹک کی آلودگی سے مبرا نظر نہیں آتے۔

ادھر ماہی گیروں کی تنظیم پاکستان فشر فوک فورم کے سربراہ محمد علی شاہ کے مطابق سمندر میں مچھلیوں کے شکار میں کمی کی وجوہات میں سے ایک وجہ پلاسٹک کی آلودگی بھی ہے۔ اس آلودگی کے باعث ماہی گیروں کو معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق، اس مسئلے کے حل کے لیے سنجیدہ کوششوں کی فوری ضرورت ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG