رسائی کے لنکس

logo-print

کراچی میں پولیس بس پر بم حملہ، 12 اہلکار ہلاک


کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے ذرائع ابلاغ کے نام اپنے ایک بیان میں اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں جمعرات کی صبح ہونے والے ایک بم حملے میں کم ازکم 12 پولیس اہلکار ہلاک اور 40 سے زائد زخمی ہو گئے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے ذرائع ابلاغ کے نام اپنے ایک بیان میں اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

شاہد اللہ شاہد نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومت اور طالبان کے درمیان باقاعدہ جنگ بندی ہونے تک تحریک طالبان اپنے خلاف ہونے والی ’’کسی بھی کارروائی کے دفاع کا حق رکھتی ہے۔‘‘

پولیس حکام کے مطابق شاہ لطیف ٹاؤن میں رزاق آباد پولیس ٹریننگ سنٹر کے قریب پولیس اہلکاروں کو لے جانے والی ایک بس کو بم حملے کا نشانہ بنایا گیا۔

وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کراچی میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ مذاکرات اور شدت پسندی ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے، اُنھوں نے کہا کہ امن و امان کی بحالی ایک قومی مسئلہ ہے۔

یہ بم حملہ ایک ایسے وقت کیا گیا جب حکومت شدت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے چکی ہے جس کی طالبان کی نامزد کردہ کمیٹی سے ہونے والی ملاقاتوں کے بعد فریقین درست سمت میں پیش رفت کے اشارے دے چکے ہیں۔

کراچی میں پولیس بس پر حملے کے بارے میں سندھ پولیس کے سربراہ شاہد ندیم بلوچ نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ بم گاڑی میں نصب تھا جس میں ریموٹ کنٹرول کے ذریعے دھماکا کیا گیا۔

بس پر 50 سے زائد اہلکار سوار تھے جو اپنی ڈیوٹی پر جا رہے تھے۔ دھماکے سے بس کو شدید نقصان پہنچا جب کہ اس کے ہمراہ پولیس اسکواڈ کی گاڑی بھی اس کی زد میں آئی۔

سندھ حکومت کے وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ کارروائی کراچی میں جاری ٹارگٹڈ آپریشن کا ردعمل ہوسکتی ہے۔

’’دہشت گرد اگر یہ سمجھتے ہیں کہ ایسی کارروائیوں سے اگر ٹارگٹڈ آپریشن بند ہو جائے گا تو یہ ان کی غلط فہمی ہے، آپریشن کراچی میں جاری رہے گا تب تک جاری رہے گا جب تک آخری دہشت گرد موجود ہے۔‘‘

زخمیوں میں سے اکثر کی حالت تشویشناک ہونے کی وجہ سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

کراچی میں پولیس اور رینجرز پر اس سے قبل بھی جان لیوا حملے ہوتے رہے ہیں۔ گزشتہ ماہ پولیس کے ایک سینیئر افسر چودھری اسلم کو بھی لیاری ایکسپریس وے پر خودکش حملے میں ہلاک کردیا گیا تھا۔
XS
SM
MD
LG