رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان کا تنازع کشمیر عالمی عدالت انصاف میں لے جانے کا فیصلہ


سری نگر میں پابندیوں کے دوران ایک بچہ باڑ کے پار سے جھانک رہا ہے۔ 16 اگست

پاکستان نے منگل کے روز یہ اعلان بھی کیا کہ وہ بھارت کے ساتھ کشمیر کے تنازع کو عالمی عدالت انصاف میں لے کر جائے گا۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک مقامی ٹیلی وژن چینل کو بتایا کہ پاکستانی حکومت نے اس معاملے کے تمام قانونی تقاضوں پر غور و خوص کے بعد یہ معاملہ عالمی عدالت انصاف لے جانے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ بھارتی کنڑول کے کشمیر میں 16 روز سے کرفیو جاری ہے۔ وہاں لوگوں کی زندگی کو اجیرن بنا دیا گیا ہے۔ بھارت وہاں مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنا چاہتا ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بھارت دنیا کو حالات معمول پر ہونے کا تاثر دے رہا ہے جب کہ صورت حال اس کے برعکس ہے۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے منگل کے روز سینئر صحافیوں، اخبارات کے ایڈیٹرز اور چینلز کے مختلف بیورو چیفس کے ساتھ ملاقات کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے کشمیر کے مسئلے اور وہاں ہونے والی انسانی حقوق کی پامالی پر عالمی عدالت انصاف سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اور اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے کیس کی تیاری کے لیے بین الاقوامی سطح کے وکیل کی خدمات حاصل کرنے کی منظوری بھی دے دی ہے۔

بعد ازاں نجی چینل کے ساتھ گفت گو میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان عالمی عدالت انصاف میں بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کا معاملہ اٹھائے گا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ صدر ٹرمپ کشمیر پر توقع سے زیادہ ہمارے موقف کی حمایت کر رہے ہیں جب کہ حکومت نے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لیے تمام اپوزیشن جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایک اور خبر کے مطابق ایک اعلیٰ پاکستانی عہدے دار نے منگل کے روز ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ بھارت کے ساتھ سرحد پر حالیہ جھڑپوں میں پاکستانی جانب درجنوں افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔

بھارت نے اپنے کنٹرول کے کشمیر کو محدود خود مختاری دینے والا عشروں سے نافذ قانون اس ماہ کے شروع میں واپس لے لیا تھا۔ جس کے بعد دونوں ہمسایہ ملکوں کے درمیان سرحدی کشیدگی میں اضافہ ہوا۔

اسلام آباد نے فوری طور پر بھارت کے 5 اگست کے اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اسے دو طرفہ اور بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی قرار دیا۔

پاکستانی کنڑول کے کشمیر کے صدر مسعود خان کا کہنا ہے کہ بے رحمانہ فائرنگ جاری ہے۔ بھارت نے ان جھڑپوں میں کلسٹر بم تک استعمال کیے ہیں۔ اب تک پاکستانی جانب تقریباً 35 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔ گھر، دکانیں اور فصلیں تباہ ہوئی ہیں اور مال مویشی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

تاہم اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ آیا یہ ہلاکتیں عام شہریوں کی ہیں یا اس میں فوجی بھی شامل ہیں۔

مسعود خان کا کہنا تھا کہ گولہ باری میں اضافے نے سنگین نوعیت کے بحران کو جنم دیا ہے۔ اور یہ بھارت کی جانب سے علاقے میں ایک بڑا حملہ شروع کرنے کی چال بھی ہو سکتی ہے۔

پاکستان کی فوج نے کشمیر میں حالیہ دو ہفتوں سے جاری لڑائیوں میں اب تک اپنے چار فوجیوں اور متعدد شہریوں کی ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر ایک بیان میں الزام عائد کیا کہ لائن آف کنٹرول پر بھارت کی طرف سے سیز فائر کی خلاف ورزی لگاتار کی جا رہی ہے اور حالیہ تازہ ترین کارروائی میں بھارتی فائرنگ سے ایک سات سالہ بچے سمیت تین شہری ہلاک ہو گئے، جس پر پاکستان نے جوابی کارروائی کی جس سے ایک افسر سمیت چھ بھارتی فوجی ہلاک ہو گئے۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی تتہ پانی سیکٹر میں ہوئی، جس میں بھارتی فوج کے دو بنکرز بھی تباہ کر دیے گئے۔

دوسری جانب بھارت کا کہنا ہے کہ بارہ مولا کے علاقے میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد ہونے والی پہلی کارروائی کے دوران دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا تاہم اس حملے کے بارے میں مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

پاکستان نے کنٹرول لائن پر بلااشتعال فائرنگ کا الزام عائد کرتے ہوئے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو ایک بار پھر دفتر خارجہ طلب کر کے شدید احتجاج کیا اور پاکستان کے بقول بھارتی فوج کی طرف سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی مذمت کی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG