رسائی کے لنکس

'سرحد پار' سے حملہ کرنے والے دو عسکریت پسند ہلاک

  • شمیم شاہد

(فائل فوٹو)

افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں مقامی امن لشکر نے مبینہ طور پر سرحد پار افغانستان سے حملہ آور ہونے والے دو مشتبہ دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

قبائلی ذرائع کے مطابق اتوار کی صبح لنڈی کوتل کے علاقے ذخاخیل میں مبینہ طور پر سرحد پار افغانستان سے اسلحہ سے لیس متعدد عسکریت پسندوں نے امن لشکر کی ایک چوکی پر حملہ کیا۔

حملہ آوروں اور لشکر کے رضاکاروں کے درمیان تقریباً دو گھنٹے تک فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہا جس کے بعد حملہ آور واپس فرار ہو گئے جب کہ ان میں سے دو مارے گئے۔

قبائلی انتظامیہ میں شامل حکام نے اس حملے کو توحید اسلام نامی لشکر کے ہاتھوں پسپا کیے جانے کی تصدیق تو کی ہے لیکن انھوں نے اس کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

قبائلی ذرائع نے لشکر کے رضاکاروں کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان حملہ آوروں کا تعلق شدت پسند گروپ داعش سے تھا۔

پاکستان کی سرحد کے ملحقہ ان افغان علاقوں میں خصوصاً ننگرہار میں داعش کے جنگجو موجود ہیں جن کے خلاف افغان سکیورٹی فورسز بین الاقوامی افواج کے ساتھ مل کر کارروائیاں کرتی آ رہی ہیں۔

خیبر ایجنسی کے افغان سرحد سے ملحقہ علاقوں میں اس سے قبل بھی عسکریت پسند حملے کرتے رہے ہیں جب کہ رواں ماہ کے اوائل میں ہونے والے ایک ایسے ہی حملے میں پاکستانی فوج کا ایک نائب صوبیدار ہلاک ہو گیا تھا۔

گزشتہ ماہ اسی قبائلی علاقے کی وادی راجگال میں ہونے والے حملے میں لیفٹیننٹ ارسلان عالم بھی جان کی بازی ہار گئے تھے۔

پاکستانی فوج راجگال وادی کو آپریشن کر کے اسے عسکریت پسندوں سے پاک کرنے کا بتا چکی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG