رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان: پولیس ایک بار پھر 'نشانے' پر


تازہ واقعہ چارسدہ کے تحصیل بازار میں پیش آیا جہاں ایک پولیس وین کو دیسی ساختہ بم سے نشانہ بنایا گیا جس سے تین افراد ہلاک ہو گئے

پاکستان کے شمال اور جنوب مغرب میں پولیس ایک بار پھر شدت پسندوں کے نشانے پر رہی اور 12 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں مختلف مقامات پر پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

تازہ واقعہ خیبر پختونخواہ کے علاقے چارسدہ کے مصروف بازار میں پیش آیا جہاں ایک پولیس وین کو دیسی ساختہ بم سے نشانہ بنایا گیا۔

حکام کے مطابق بارودی مواد ایک موٹرسائیکل میں نصب تھا جس میں اس وقت ریموٹ کنٹرول سے دھماکا کیا گیا جب اس کے قریب سے پولیس کی وین گزر رہی تھی۔

دھماکے سے تین افراد ہلاک جب کہ 30 سے زائد زخمی ہو گئے جن میں ایک درجن کے قریب پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

خیبرپختونخواہ پولیس کے سربراہ ناصر خان درانی نے منگل کو صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ " حالیہ دنوں میں پولیس نے ٹارگٹڈ آپریشن کیے جن میں کافی لوگ اسلحے اور بارود کے ساتھ پکڑے گئے اور یہ تازہ واقعات اسی کا ردعمل ہیں۔"

ان کا کہنا تھا کہ شدت پسند پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور پولیس اپنی حکمت عملی کو مزید بہتر کرے گی۔

اس حملے سے کچھ ہی دیر بعد جنوب مغربی صوبہ بلوچستان کے علاقے جعفر آباد میں بھی پولیس کی ایک گاڑی کو بم سے نشانہ بنایا گیا جس سے ایک ڈی ایس پی سمیت تین اہلکار زخمی ہوگئے۔

پیر کو رات دیر گئے خیبر پختو نخواہ کے مرکزی شہر پشاور کے مضافاتی علاقے بڈھ بیر میں شدت پسندوں نے پولیس کی ایک وین پر فائرنگ کر کے پانچ اہلکاروں اور گاڑی کے ڈرائیور کو ہلاک کر دیا تھا۔

پولیس اہلکار معمول کی گشت پر تھے کہ وہاں گھات لگائے شدت پسندوں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔

ملک میں ایک دہائی سے زائد عرصے سے جاری دہشت گردی و انتہا پسندی سے خیبرپختونخواہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے اور یہاں اس سے قبل بھی پولیس و سکیورٹی فورسز پر متعدد جان لیوا حملے ہو چکے ہیں۔

یہ تازہ حملے ایک ایسے وقت ہوئے ہیں جب کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے گزشتہ ہفتے ہی چالیس روز کی فائربندی میں توسیع نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

حکومت سے مذاکرات کے لیے یکم مارچ کو طالبان نے فائربندی کا اعلان کرتے ہوئے اپنے تمام گروپوں کو پر تشدد کارروائیاں نہ کرنے کا کہا تھا۔

مذاکراتی عمل میں اب تک سرکاری مذاکراتی کمیٹی اور طالبان کے درمیان ایک ہی براہ راست ملاقات ہوئی ہے اور اس عمل کا مستقبل فی الحال ابہام کا شکار ہے۔
XS
SM
MD
LG