رسائی کے لنکس

logo-print

خیبرپختونخواہ: تدریسی نصاب میں تبدیلی، جماعت اسلامی کے خدشات


کمیٹی کے ایک رکن کا کہنا تھا کہ صنفی مساوات اور مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے تدریسی مواد بھی نصاب میں شامل کیا گیا۔

صوبہ خیبر پختونخواہ میں درسی نصاب میں تحریف و اضافت کے معاملے پر حکمران اتحاد میں شامل جماعت اسلامی نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ درسی مواد کو اسلام اور نظریہ پاکستان کے مطابق ہونا چاہیے۔

2006ء میں مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے دور حکومت میں صوبے میں ثانوی درجے تک درسی نصاب کا ازسر نو جائزہ لینے کے لیے سلیبس کمیٹی بنائی گئی تھی لیکن اس پر پوری طرح کام نہ ہو سکا۔

بعد ازاں عوامی نیشنل پارٹی نے اپنے دور اقتدار میں اس کمیٹی پر کام شروع کیا جس میں جماعت اسلامی سمیت دیگر علما دین کو بھی شامل کیا گیا لیکن اس کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد تحریک انصاف کی موجودہ حکومت نے کیا۔

کمیٹی کے ایک رکن خادم حسین نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ درسی نصاب میں کسی بھی طرح سے اسلامی تعلیمات اور مواد کو خارج نہیں کیا بلکہ بچوں کی ذہنی استعداد کے مطابق اس کے درجے میں تبدیلی کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ صنفی مساوات اور مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے تدریسی مواد بھی نصاب میں شامل کیا گیا۔

"اس میں ایسا مواد جو نویں جماعت کے تیرہ یا چودہ سالہ بچے جو کہ ابھی بالغ بھی نہیں ہوتے تو یہ ان کی اگلی جماعتوں کے لیے رکھ دیا گیا، دوسرا یہ جو تاریخی حوالے سے جنہوں نے اس قوم کے لیے اس سماج کے لیے کوئی ایسا کام کیا ہے جس کو تاریخ یاد کرتی ہے ان کو شامل کیا جائے مثلاً باچا خان کو شامل کی گیا غنی خان کو شامل کیا جائے۔"

جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر عنایت اللہ کا کہنا تھا کہ نصاب میں خطے کی تاریخ اور شخصیات کو شامل کرنے پر انھیں کوئی اعتراض نہیں لیکن مذہبی تعلیمات اور مقدس شخصیات سے متعلق مضامین کو ہٹایا جانا مناسب نہیں۔

"بنیادی اعتراض جو ہے وہ کچھ ایسی تصویریں تھی مثلاً اسکرٹ میں خاتون کی تصویر تھی ہمارا کلچر دوپٹہ ہے اور آپ انگریزوں کو نہیں مسلمانوں کو پڑھاتے ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ یہ مناسب نہیں ہے۔ اور پھر ہماری مسلم تاریخ ہے جو ثقافت ہے وہ ہمارے بچوں کو پڑھائی جائے۔"

صوبائی حکومت میں شامل عہدیداروں کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی کے تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے نصاب میں تبدیلی پر غور کیا جارہا ہے اور نیا نصاب آئندہ تعلیمی سال سے درسگاہوں میں پڑھایا جائے گا۔

واضح رہے کہ خیبر پختونخواہ کی حکومت کہہ چکی ہے کہ وہ صوبے میں تعلیم کے نظام میں بہتری کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے جن میں اسکولوں کی عمارتوں کو بہتر بنانے کے علاوہ اساتذہ کی تربیت بھی شامل ہے۔

XS
SM
MD
LG