رسائی کے لنکس

logo-print

ضلع خیبر میں دو بچے لاپتا، شٹر ڈاؤن ہڑتال جاری


فائل فوٹو

صوبہ خيبر پختونخوا کے ضلع خيبر کے علاقے تيراہ ميدان ميں سينکڑوں افراد نے احتجاج کرتے ہوئے انتظاميہ پر زور ديا ہے کہ وہ لاپتا ہونے والے دو بچوں کو جلد از جلد بازياب کرائے۔

منصف اور آصف، جن کی عمريں بالترتيب سات سال اور پانچ سال ہيں، اتوار کے روز اپنے گھر سے تيراہ ميدان کے قمبر خيل علاقے نرہاو ميں واقع مدرسے گئے تھے جہاں مدرسے کے امام نے انھيں گھر سے سويٹر اور جرابيں پہن کر واپس آنے کو کہا۔ دونوں طالب علم لا پتا ہيں۔

آل پاکستان جرگہ پاکستان تنظيم کے کنوينرعابد آفريدی کے مطابق گزشتہ چار دنوں سے کسی بھی قسم کی پيش رفت ديکھنے میں نہيں آئی۔

وائس آف امريکہ سے بات کرتے ہوئے عابد آفريدی نے بتايا کہ ان کے علاقے میں کبھی بچہ اغواء يا لاپتا نہيں ہوا ہے اس لئے علاقے کے لوگ گزشتہ تين دنوں سے شدید احتجاج کر رہے ہیں۔

لوگوں کا کہنا ہے کہ علاقے ميں درجن بھر سيکیورٹی چيک پوائنٹس کی موجودگی ميں بچوں کا چار دنوں سے غائب ہونا کسی اچھنبے سے کم نہيں ہے۔

تاہم مقامی پوليس کے مطابق وہ اس کيس سے آگاہ ہے اور متاثريں سے مکمل رابطے ميں ہيں۔

وائس آف امريکہ سے بات کرتے ہوئے ايس ايچ او شمشاد خان نے بتايا کہ انھوں نے مدرسے کے امام اور اس کے بيٹے سميت متعدد افراد کو گرفتار کيا ہے اور تفتيش ميں کافی کاميابی ہوئی ہے۔ انہوں نے آئندہ 24 گھنٹوں ميں يہ معاملہ حل ہو جانے کی توقع ظاہر کی ہے۔

گزشتہ چند برسوں ميں پاکستان ميں بچوں سے زيادتی اور قتل کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے ہيں جس کی وجہ سے لوگ خدشات میں مبتلا ہیں۔ عابد آفریدی کا کہنا ہے کہ علاقے میں تين روز سے مکمل شٹر ڈاون ہے اور وہ جمعرات کو پشاور جا کر احتجاج کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG