رسائی کے لنکس

logo-print

چیف جسٹس کا اپنے تمام اعضا بعد از مرگ عطیہ کرنے کا اعلان


ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی نے عدالت کو بتایا کہ موثر قانون سازی نہ ہونے کے باعث گردوں کی پیوند کاری جاری ہے۔ بدقسمتی سے غیر قانونی اعضا کی پیوند کاری میں پاکستان کا شمار صف اول کے ممالک میں ہوتا ہے۔

پاکستان سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے کراچی بعد از مرگ اپنے اعضا عطیہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی کی صحت کے شعبے میں خدمات کو سراہا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدلیہ اس ادارے کی مدد کے لیے جو بھی کچھ کر سکتی ہے، ضرور کرے گی۔

سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورالوجی اینڈٹرانسپلانٹ نے گردوں کی غیر قانونی پیوندکاری روکنے سے متعلق معروف ڈاکٹر ادیب رضوی نے تحریری سفارشات سپریم کورٹ میں جمع کرادیں۔

اس سے قبل سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں گردوں کی غیرقانونی پیوند کاری سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے اس معاملے پر ڈاکٹرز کی معاونت طلب کرلی ہے۔ سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ انسانی اعضا کو عطیات کرنے کے لیےموثر قانونی سازی کے لئے سفارشات مرتب کی جائیں۔

بینچ کا کہنا تھا کہ انسانی زندگی کے تحفظ کےلئے مفصل سفارشات تیار کی جائیں۔ سپریم کورٹ کے حکم پر ڈاکٹر ادیب رضوی نے انفرادی حیثیت سے سفارشات پیش کردیں۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ ہمیں اس عمل کو روکنا ہوگا۔ اس بارے میں ڈاکٹرز حضرات ہماری معاونت کریں۔ ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی نے عدالت کو بتایا کہ موثر قانون سازی نہ ہونے کے باعث گردوں کی پیوند کاری جاری ہے۔ بدقسمتی سے غیر قانونی اعضا کی پیوند کاری میں پاکستان کا شمار صف اول کے ممالک میں ہوتا ہے۔

ڈاکٹر ادیب رضوی نے مزید کہا کہ معاشرے کے ہر طبقے کو موثر کردار ادا کرنا ہوگا۔ انسانی اعضاء کی غیر قانونی پیوند کاری روکنے کے لیے موثر قانون سازی کی اشد ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعد از مرگ انسانی اعضا کو عطیہ کرنے کی اجازت ہونی چاہئے۔ دنیا بھر اور اسلامی ممالک میں بعد از مرگ انسانی اعضا عطیات کرنے کے قوانین موجود ہیں۔ ڈونرز اور عوام میں شعور بیدار کرنے کی بھی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر ادیب رضوی نے بینچ کے سامنے موقف اختیار کیا کہ انسانی اعضا عطیہ کرنے اور شعور بیدار کرنے کے لیے ذرائع ابلاغ کو استعمال کیا جائے۔ کراچی میں ہر سال ایک ہزار لوگ حادثات ودیگر وجوہات میں ہلاک ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر ادیب رضوی نے کہا کہ حادثات میں ہلاک ہونے والوں کے اعضا کو عطیات کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر عطیات کا عمل نہ کیا گیا تو غیر قانونی کمرشل کام جاری رہے گا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ یہ انتہائی اہم معاملہ ہے۔ انسانی اعضا کو عطیات کرنے کے لیے موثر قانونی سازی کی ہدایت دیں گے۔ آپ ہمیں سفارشات دیں ہم کارروائی کا حکم دیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG