رسائی کے لنکس

پشتون تحفظ تحریک سے مذاکرات کے لیے جرگہ تشکیل


لاہور میں پشتون تحفظ تحریک کے جلسے میں موجود شرکا۔ 22 اپریل 2018

کورکمانڈر پشاور نے کہا کہ پشتون تحفظ تحریک کے زیادہ تر مطالبات درست ہیں اور اُن  کے حل کے لئے حکومت مذا کرات کے لئے تیار ہے۔ مگر اُنہوں نے کہا کہ اس تحریک کی سرگرمیوں، جلسوں اور نعروں سے ملک دشمن قوتیں فائدہ اُٹھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

خیبر پختونخوا حکومت نے پشتونوں کو درپیش سیکورٹی اور انتظامی مسائل کے حل کے لئے سرگرم پشتون تحفظ تحریک کے رہنماؤں سے مزاکرات شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس مقصد کے لئے ایک بڑا نمائندہ جرگہ تشکیل دیا گیا ہے جس میں وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں کے علاوہ مالا کنڈ ڈویژن سے تعلق رکھنے والے سیاسی اور قبائلی رہنما شامل ہیں۔

پشاور کے کورکمانڈر نے منگل کے روز صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ منظور پشتین کے ساتھ رابطے میں ہیں جبکہ سربرا ہ کے ساتھ بات چیت شروع کرنے کا فیصلہ ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں ہوا۔ ایپکس کمیٹی خیبر پختو نخوا کے گورنر، وزیر اعلیٰ اور کورکمانڈر پر مشتمل ہے اور اس کمیٹی کا مقصد خیبر پختونخوا اور ملحقہ قبائلی علاقوں میں امن و امان کی صورت حال کا جائزہ لینا اور امن و امان قائم رکھنے کے علاوہ عوام کو درپیش مسائل کو حل کرنا ہے۔

کورکمانڈر نے کہا کہ پشتون تحفظ تحریک کے زیادہ تر مطالبات درست ہیں اور اُن کے حل کے لئے حکومت مذا کرات کے لئے تیار ہے۔ مگر اُنہوں نے کہا کہ اس تحریک کی سرگرمیوں، جلسوں اور نعروں سے ملک دشمن قوتیں فائدہ اُٹھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ یہ غیر ملکی قوتیں کسی بھی طور پر اس خطے بالخصوص قبائلی علاقوں میں قیام امن اور استحکام سے خو ش نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر مختلف ممالک بالخصوص افغانستان سے تعلق رکھنے والے افراد اس تحریک کی سرگرمیوں کو ناصرف بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں بلکہ وہ فو ج پر غلط الزا مات بھی لگا رہے ہیں۔

کور کمانڈر نے کہا کہ حکومتی پالیسیوں کے مطابق فوج نے نہ صرف قبائلی علاقوں میں امن و امان بحال کر دیا ہے بلکہ اب افغانستان کے ساتھ طویل سرحد پر خار دار باڑ بھی لگائی جا رہی ہے۔ ان مقاصد کے لئے فو ج اور مقامی لوگوں نے بہت بڑی مالی اور جانی قربانیاں دی ہیں۔

پشتون تحفظ تحریک کے مطالبات میں لاپتہ افراد کی رہائی اور بازیابی بھی شامل ہے۔ مگر حکام کا کہنا ہے کہ ان افراد میں وہ عسکریت پسند بھی شامل ہیں جن کے ہاتھ بے گناہ لوگوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں اور اُنہوں نے ریاستی عمل داری کو بھی چیلنج کیا تھا۔

کورکمانڈر نے کہا کہ جو لوگ دہشت گردی اور تشدد کے واقعات میں ملوث تھے ان کو عدالتی کارروائیوں کا سامنا کرنا ہو گا اور ان کو عدالتی فیصلوں کے مطابق سزا دی جا ئے گی چاہے اُنہوں نے از خود رضا کارانہ طور پر اپنے آپ کو حکومت کے سپرد کیا ہو۔

کور کمانڈر نے کہا کہ پاک افغان سرحد پر 470 کلو میٹر پر خار دار باڑ لگا دی گئی ہے جبکہ اگلے سال کے آخر تک یہ منصوبہ مکمل کر لیا جائے گا۔ اس طرح 443 چوکیوں کی تعمیر جا رہی ہے جن میں سے 147 مکمل ہو چکی ہیں۔ خاردار باڑ کے لگانے اور چوکیوں کی تعمیر سے دونوں ہمسایہ ملکوں کے درمیان عسکریت پسندوں کی آمدورفت مکمل طو ر پر ختم ہو جائے گی۔ اس طرح سرحدی گزرگاہوں پر بارڈر مینیجمنٹ سسٹم کے لگا نے سے دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

کورکمانڈر کے مطابق وفاق کے زیر اہتمام قبائلی علاقوں اور مالاکنڈ ڈویثرن میں امن و امن کی صورت حال انتہائی تسلی بخش ہے اور وہاں بتدریج انتظامی ذمہ داریاں سول حکام کے سپرد کی جا رہی ہیں۔ تاہم اُنہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں کے صو بہ خیبر پختونخوا میں انضمام میں تاخیر کی وجہ سے قبائلی علا قوں میں انتظامی ذمہ داریاں سول حکام کے حوالے کرنے میں دشواریاں پیش آرہی ہیں۔ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں اور مالاکنڈ ڈویثرن میں بیشتر سیکیورٹی فورسز کی چوکیاں ختم کر دی گئی ہیں اور وہاں پر اب پولیس اہلکار فرائض انجام دے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ اس پریس کانفرنس پر مبنی خبر شائع ہونے کے بعد پاکستانی فوجی ذرائع کی جانب سےبعض میڈیا اداروں کو یہ خبر نشر یا شائع نہ کرنے کے پیغامات بھی موصول ہوئے۔

فوج نے وفاق کے زیر اہتمام قبائلی علاقوں میں امن و امان قائم رکھنے اور ریاست کی عملداری قائم رکھنے کے لئے حالیہ برسوں میں 14 فوجی کاروائیاں کی ہیں جن کے بہت مثبت نتائج برآمد ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ ان کاروائیوں کے نتیجے میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانے ختم ہو چکے ہیں اور یہاں پر پناہ لینے والے عسکریت پسند سرحد پار افغانستان فرار ہو چکے ہیں۔ کاروائیوں کے نتیجے میں نہ صرف قبائلی علاقوں بلکہ خیبر پختونخوا کی وادی سوات اور اس سے ملحقہ اضلاع پشاور، چارسدہ، ہنگو اور ٹانک میں بھی دہشت گردی کے واقعات میں کافی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG