رسائی کے لنکس

کلبھوشن کی اہلیہ اور والدہ سے وزارتِ خارجہ میں ملاقات


پاکستان نے پہلے کلبھوشن کی اہلیہ کو ملاقات کی اجازت دی تھی جس کے بعد بھارت کی درخواست پر کلبھوشن کی والدہ کو بھی ویزا جاری کر دیا گیا تھا۔

پاکستان میں زیرِ حراست مبینہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی بیوی اور والدہ نے پیر کو اسلام آباد میں کلبھوشن سے ملاقات کی۔

اسلام آباد میں وزارتِ خارجہ میں ہونے والی ملاقات لگ بھگ نصف گھنٹے تک جاری رہی جس میں بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ بھی موجود تھے۔

ملاقات میں پاکستان کی وزارتِ خارجہ کی بھارت ڈیسک کی سربراہ ڈاکٹر فاریحہ بھی موجود تھیں۔

کلبھوشن یادیو کی اہلیہ اور والدہ پیر کی صبح ہی براستہ دبئی اسلام آباد پہنچی تھیں جہاں پہلے اُن سے بھارتی ہائی کمیشن کے عہدیداروں نے ملاقات کی تھی جس کے بعد وہ وزارتِ خارجہ پہنچی تھیں۔

کلبھوشن کی اپنے اہلِ خانہ سے ملاقات کے موقع پیر کی صبح ہی سے دفترِ خارجہ کے نزدیک سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات تھے اور غیر متعلقہ افراد کو وزارت کی عمارت کے نزدیک جانے کی اجازت نہیں تھی۔

ملاقات کی کوریج کے لیے صحافیوں کو بھی خصوصی کارڈ جاری کیے گئے تھے۔

ملاقات کے بعد کلبھوشن کی والد اور اہلیہ پیر ہی کو پاکستان سے واپس روانہ ہو گئیں۔

پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان محمد فیصل نے نیوز بریفنگ میں بتایا کہ اس ملاقات کی اجازت اُن کے بقول خالصتاً انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دی گئی۔

’’یہ آخری ملاقات بالکل نہیں ہے۔۔۔ اس کا قانون سے کوئی تعلق نہیں، ہم نے مقدمہ جیتنے کے لیے یہ ملاقات نہیں کرائی نا اس کا کوئی اثر ہو گا۔‘‘

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان کی یہ خواہش تھی کہ کلبھوشن یادیو کی اہلیہ اور والدہ میڈیا سے بات کریں لیکن بھارتی ہائی کمیشن اس پر رضا مند نہیں تھا۔

پاکستان نے پہلے کلبھوشن کی اہلیہ کو ملاقات کی اجازت دی تھی جس کے بعد بھارت کی درخواست پر کلبھوشن کی والدہ کو بھی ویزا جاری کر دیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل پاکستان کلبھوشن یادیو تک سفارتی رسائی دینے کے لیے بھارت کی طرف سے کی گئی متعدد درخواستوں کو مسترد کرتا رہا ہے۔

رواں سال مئی میں عالمی عدالتِ انصاف نے اپنے عبوری فیصلے میں کہا تھا کہ پاکستان کلبھوشن یادیو کی سزائے موت پر عدالت کا حتمی فیصلہ آنے تک عمل درآمد نہ کرے۔

کلبھوشن یادیو کو رواں سال اپریل میں پاکستان کی ایک فوجی عدالت نے جاسوسی کے الزام میں موت کی سزا سنائی تھی جس کے خلاف یادیو نے پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے رحم کی اپیل بھی کر رکھی ہے۔

بھارت نے عالمی عدالتِ انصاف میں یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ کلبھوشن یادیو اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد ایران میں تجارت کر رہے تھے، جہاں سے پاکستان نے اُنھیں اغوا کیا۔

لیکن پاکستان بھارت کے دعوے کو رد کرتے ہوئے کہتا ہے کہ مارچ 2016ء میں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائی کر کے کلبھوشن یادیو کو بلوچستان سے گرفتار کیا گیا تھا جو مبینہ طور پر بھارتی خفیہ ادارے ’را‘ کا ایجنٹ اور بھارتی بحریہ کا حاضر سروس ملازم ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG