رسائی کے لنکس

logo-print

لاہور میں دھماکا، دو پولیس افسران سمیت 13 افراد ہلاک


پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں مال روڈ پر پیر کی شام ایک دھماکے میں دو سینیئر پولیس افسران سمیت 13 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔

بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے، جس سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ ابتدائی طور پر بتایا جاتا ہے کہ یہ مبینہ طور پر خودکش بمبار کی کارروائی تھی۔

اس دھماکے میں ہلاک ہونے والوں میں لاہور ٹریفک پولیس کے ’ڈی آئی جی‘ کیپٹن (ریٹائرڈ) احمد مبین اور سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس زاہد گوندل بھی شامل ہیں۔

ڈی آئی جی احمد مبین
ڈی آئی جی احمد مبین

صوبائی عہدیداروں کے مطابق بظاہر اس دھماکے کا ہدف پولیس کے افسران ہی تھے۔ یہ دھماکا پنجاب اسمبلی کے قریب ’چیئرنگ کراس‘ پر ہوا ہے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ایک دھڑے جماعت الاحرار نے لاہور میں ہونے والے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ جماعت الاحرار کے ترجمان کے مطابق یہ حملہ اُن کے ایک خودکش بمبار نے کیا۔

دھماکے کے مقام پر احتجاج ہو رہا تھا

جب یہ دھماکا ہوا، تو اس وقت مال روڈ پر دوا ساز کمپنیوں سے تعلق رکھنے والے ’فارما مینوفیکچررز اور کیمسٹس‘ کا احتجاج جاری تھا، یہ احتجاج ’ڈرگ ایکٹ‘ کے خلاف کیا جا رہا تھا۔

اعلیٰ پولیس عہدیدار احتجاج میں شامل افراد سے بات چیت کے لیے وہاں موجود تھے تاکہ ٹریفک کے نظام کو بحال کیا جا سکے۔

لاہور کے اسپتالوں میں ہنگامی حالت نافذ

صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا کہ دھماکے کے فوراً بعد امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئی ہیں اور زخمیوں کو لاہور کے مختلف اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا، جن میں سے زیادہ تعداد گنگا رام اسپتال میں داخل ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ لاہور کے تمام اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی اور تمام سینیئر ڈاکٹر بھی اسپتالوں میں پہنچ گئے ہیں۔

دھماکے کے بعد کئی گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔

احتجاج کی وجہ سے پولیس افسران اور اہلکار تو پہلے ہی وہاں موجود تھے، تاہم دھماکے کے فوراً بعد فوج نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔

دھماکے کی مذمت

صدر ممنون حسین، وزیراعظم نواز شریف، فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اس دھماکے کی شدید مذمت کی ہے۔

وزیراعظم نواز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ جب تک دہشت گردی کے کینسر سے لوگوں کو نجات نہیں دلا دی جاتی، اُس وقت تک اس کے خلاف لڑائی جاری رہے گی۔

’نیکٹا کا انتباہ‘

نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی ’نیکٹا‘ نے رواں ماہ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر ایک انتباہ جاری کیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ دہشت گرد گروہ نے لاہور میں حملے کا منصوبہ بنایا ہے۔

’نیکٹا‘ کی طرف سے تمام اداروں کو انتہائی چوکس رہنے کا کہا گیا تھا۔

حکام کیا کہتے ہیں۔۔!!

وزیر قانون پنجاب رانا ثناء کا کہنا ہے کہ دھماکا خود کش تھا۔پیر کی شام ایک ٹی وی انٹرویو میں انہوں نے کہاکہ حملہ آور پیدل تھا اور چونکہ وہاں لوگوں کی ایک بڑی تعداد مجمع کی شکل کھڑی تھی اس لئےحملہ آور آسانی سے مجمع میں داخل ہوگیا ۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جس جگہ لوگوں کی بڑی تعداد موجود ہو وہاں کسی ایک شخص کو روکنا مشکل ہوتا ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ حملہ آور کی شناخت ہوگئی ہے۔

ادھر آئی جی پنجاب مشاق سکھیرا کابھی یہی کہنا ہے کہ دھماکا خود کش تھا۔ مرنے والوں میں چھ پولیس اہلکار بھی موجود تھے۔انہوں نے بتایا کہ دھماکا مقامی وقت کے مطابق شام 6 بج کر 10منٹ پر ہوا۔

تاہم ایک عینی شاہد نے مقامی میڈیا نمائندوں کو بتایا کہ دھماکا ایک موٹر سائیکل سوار کے موقع پر کھڑی ہوئی ایک گاڑی کے ٹکرانے سے ہواجس کے بعد آگ بھڑک اٹھی۔

زخمیوں کو گنگا رام اور میو اسپتال منتقل کیا گیاجبکہ شہر بھر کے تمام اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ۔

سی سی پی او لاہور نے ڈی آئی جی ٹریفک لاہور احمد مبین اور ایس ایس پی زاہد گوندل کے انتقال کی تصدیق کی ہے ۔

ڈپٹی کمشنر لاہور کا کہنا ہے کہ زخمیوں کی تعداد 73ہے جنہیں مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ زخمیوں میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے۔

دھماکے کے وقت مظاہرین کی جانب سے اسمبلی کے سامنے لگائے گئے اسٹیج پر قائدین خطاب کررہے تھے۔

احتجاج پنجاب حکومت کی جانب سے بنائی گئی نئی ڈرگ پالیسی کے خلاف ہورہا تھا اور لوگوں کی بڑی یہاں موجود تھی۔

XS
SM
MD
LG