رسائی کے لنکس

logo-print

لاہور کے شاہی قلعے میں 'رنجیت سنگھ' کا مجسمہ نصب


مہاراجہ رنجیت سنگھ نے 40 سال پنجاب پر حکومت کی۔

لاہور کے تاریخی شاہی قلعے میں پنجاب کے سابق حکمران مہاراجہ رنجیت سنگھ کی یاد میں ان کا ایک مجسمہ نصب کیا گیا ہے، جس میں وہ تیر کمان تھامے ایک گھوڑے پر سوار ہیں۔

یہ مجسمہ برطانیہ میں سکھ ورثے کے ڈائریکٹر بوبی سنگھ بنسال نے والڈ سٹی لاہور کے تعاون سے یہاں نصب کیا ہے، فائبر کولڈ کانسی سے تیار کئے گئے مجسمے میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کی زندگی کا اصل رنگ بھرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

مجسمے کی تقریب رونمائی کا اہتمام کیا گیا جس میں سکھوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ڈائریکٹر والڈ سٹی لاہور اتھارٹی کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت مذہبی سیاحت کو فروغ دینے کے لئے کوشاں ہے اور یہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

مجسمے میں پانچ فٹ پانچ انچ قد کے مہاراجہ کو ان کے پسندیدہ عربی نسل کے گھوڑے 'کہار بہار' پر بیٹھا دکھایا گیا ہے، جو انھیں افغانستان کے بارکزئی دور کے مرکزی رہنما دوست محمد خان کی جانب سے تحفہ میں دیا گیا تھا۔

درمیانے قد کا یہ گھوڑا مہاراجہ کو اس کی تیز رفتاری کی وجہ سے بہت پسند تھا، بعض روایات کے مطابق مہاراجہ رنجیت سنگھ کو گھوڑوں سے اس قدر لگاؤ تھا کہ چار ہزار گھوڑے ان کی ملکیت تھے۔

مہاراجہ رنجیت سنگھ کون تھے؟

مہاراجہ رنجیت سنگھ نے انیسویں صدی کے آغاز میں لاہور کو فتح کیا۔ ایک اندازے کے مطابق انھوں نے پنجاب پر چالیس برس حکمرانی کی۔ یہ وہی دور ہے جس میں سکھوں کو برصغیر پر مکمل طور پر حکمرانی کرنے کا موقع ملا۔ اس خطے میں ہندووں اور مسلمانوں کی حکمرانی کی تاریخ کئی ہزار سال پر محیط ہے۔

کہا جاتا ہے کہ مغل بادشاہ جلال الدین اکبر کے بعد مہاراجہ رنجیت سنگھ دوسرے ایسے حکمران تھے جنھوں نے خطے میں امن اور بھائی چارے کی فضا کو فروغ دیا۔

مہاراجہ رنجیت سنگھ کی برسی کے موقع پر اس برس بھی سینکڑوں سکھ یاتری لاہور پہنچے ہیں، جس دوران وہ مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لئے گردوارہ ڈیرہ صاحب بھی حاضری دیں گے جہاں رنجیت سنگھ کی سمادھی بھی ہے۔

یہاں آنے والے سکھ یاتری تاریخی قلعے کا رخ بھی کرتے ہیں۔ جہاں اب سکھ گیلری کے باہر یہ مجسمہ ان سیاحوں کا استقبال کرے گا۔ سکھ گیلری مہاراجہ کی اہلیہ اور سکھ دور حکومت کی آخری حکمراں مائی جنداں کی حویلی کے نچلے حصے میں واقع ہے۔

مجسمے کو ڈیزائن کرنے والے فقیر سیف الدین فقیرخانہ میوزیم کے ڈائریکٹر ہیں، جن کا خاندان مہاراجہ رنجیت سنگھ کی پنجاب کی تاریخ کا امین ہے۔ فقیر سیف الدین نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس سے پہلے بھی سکھوں کے اس رہنما کے مجسمے بنتے رہیں ہیں لیکن یہ اپنی نوعیت کا پہلا شاہکار ہے۔ یہ اتنا پائیدار ہے کہ تیس سے پینتیس برس کھلے آسمان تلے موسم کی سختیاں برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

مجسمے کی تیاری میں باریک بینی سے کام لیا گیا ہے، مہاراجہ کے ہاتھ میں تیر کمان اور کمر پر ڈھال بنائی گئی ہے، مہاراجہ کے کپڑوں اور جوتوں پر زری اور موتیوں کا خوبصورت کام بھی کیا گیا ہے۔

مجسمہ بنانے والے بوبی سنگھ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ گزشتہ تیس سال سے لاہور آ رہے ہیں اور اب وہ لاہور کو ایک تحفہ دینا چاہتے تھے۔ ایک ایسا تحفہ جو لاہور اور لاہوریوں کا ماضی کے حکمران کے ساتھ ناطہ جوڑے رکھے۔

اس کے لیے انھوں نے والڈ سٹی اتھارٹی کو اپنا آئیڈیا دیا جنھوں نے اسے خوش دلی سے قبول کیا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کے پنجاب کی مختلف جامعات یا تعلیمی اداروں میں جب لیکچر دینے جاتے ہیں تو یہ بات انھیں حیران کرتی ہے کہ موجودہ نسل رنجیت سنگھ سے ناواقف ہے۔

بوبی سنگھ کا کہنا تھا کہ رنجیت سنگھ صرف سکھوں ہی نہیں بلکہ ہندوؤں اور مسلمانوں کا بھی رہنما تھا اور جس نے صوبہ پنجاب کی بنیاد رکھی، اس کے بارے میں کئی غلط تصورات یہاں موجود ہیں۔ ان کے بقول یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مہاراجہ کی طرف سے ناانصافی کی گئی لیکن تاریخ گواہ ہے کہ وہ رحم دل، انسان دوست اور سب سے بڑھ کر علاقائی سیاست کا پرچار کرنے والے حاکم تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG