رسائی کے لنکس

logo-print

سپریم کورٹ کا رائل پام کلب ریلوے کے حوالے کرنے کا حکم


(فائل فوٹو)

سپریم کورٹ آف پاکستان نے لاہور کے رائل پام اینڈ کنٹری کلب کے معاہدے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے، زمین واپس ریلوے کی تحویل میں دینے کا حکم دیا ہے۔

2001ء میں سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں ریلوے کی زمین کو اونے پونے داموں رائل پام کلب کو دینے کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت تھا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کے دو رکنی بینچ نے جمعہ کے روز لاہور رجسٹری میں رائل پام کنٹری کلب کا فیصلہ پاکستان ریلوے کے حق میں کرتے ہوئے میکس کارپ کنسورشیم کے ساتھ پاکستان ریلوے کے معاہدے کو کالعدم قرار دے دیا۔

کلب کا انتظام ریلوے کے سپرد

جسٹس عظمت سعید شیخ اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل دو رکنی بینچ نے فیصلے میں لکھا ہے کہ کلب کا انتظام یا تو ریلوے خود سنبھالے یا نجی شعبے کے تعاون سے کلب کے معاملات چلائے۔

عدالت نے کلب کے معاملات کا فرانزک آڈٹ کروانے کے لیے آڈیٹر جنرل آف پاکستان کو بھی ہدایات جاری کر دی ہیں۔

'عوام مبارکباد کی مستحق ہے'

وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے عدالتی فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ دراصل پاکستانی عوام کی فتح ہے۔

شیخ رشید نے وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کر کے انھیں عدالتی فیصلے سے آگاہ کیا اور مٹھائی بھی کھلائی۔

شیخ رشید نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ وہ سپریم کورٹ آف پاکستان کو سیلوٹ کرتے ہیں جنھوں نے پاکستانی عوام کے حق میں فیصلہ دیا۔

شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ رائل پام کی زمین کی مالیت کھربوں میں ہے 2001ء سے وہاں ایک مافیا اس پر قابض تھا۔

رائل پام گالف اینڈ کنٹری کلب کہاں ہے؟

لاہور کے وسط میں دھرمپورہ کے علاقے میں نہر کے بائیں جانب ریلوے کی اراضی پر رائل پام کلب 2001ء میں تعمیر کیا گیا، جو ایک سو پچاس ایکڑ رقبے پر محیط ہے۔

کلب میں مارکیز (شادی گھر)، سینما گھر، سوئمنگ پول، مختلف ریستوران، ہوٹل، بیکری اور کانفرنس ہالوں سمیت ایک وسیع و عریض گالف کورس بھی ہے۔

پاکستان ریلوے اور کنسورشیم کے درمیان 2001ء میں رائل پام کلب کے لیے ایک سو تین ایکڑ زمین 33 سال کے لیے لیز پر دینے کا معاہدہ ہوا تھا۔ ریلوے ریکارڈ کے مطابق زمین لیز پر دیتے وقت ٹینڈر شرائط کے برعکس نہ صرف ایک سو تین ایکڑ اراضی کو ایک سو چار ایکڑ کر دیا گیا بلکہ ریٹ بھی نہایت کم رکھے گئے۔

معاہدے کے مطابق فائیو اسٹار ہوٹل اور فوڈ بیورج سے حاصل کردہ آمدن کا دس فیصد حصہ ریلوے کو دینے کی شق بھی خارج کر دی گئی۔

زمین لیز پر دینے کے ذمہ دار کون تھے؟

پاکستانی فوج کے سابق سربراہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے دور میں فوج کے سابق اعلیٰ افسروں پر اس معاہدے میں اثرو رسوخ استعمال کرنے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ جن میں سابق وزیر ریلوے لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) جاوید اشرف قاضی، لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ سعید ظفر، اور میجر جنرل (ریٹائرڈ) حسن بٹ شامل ہیں۔ اِن افسران کے خلاف نیب میں تحقیقات بھی چل رہی ہیں۔

اس معاہدے میں مبینہ بدعنوانی کے الزامات 2007ء میں سامنے آنا شروع ہوئے تھے جس کے بعد سے ملک کے مختلف تحقیقاتی اداروں نے اس معاملے کی چھان بین شروع کی تھی۔

نومبر 2012ء میں قومی احستاب بیورو نے ان تین فوجی افسران کو اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے طلب کیا تھا۔ یہ معاملہ نیب تک محدود نہیں رہا تھا بلکہ اس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری نے بھی اس پر نوٹس لیتے ہوئے ان سابق جرنیلوں کو اپنا جواب داخل کرانے کا حکم دیا تھا۔

مسلم لیگ ن کا موقف

مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے معاہدے کی خلاف ورزی پر 2016ء میں یہ معاہدہ منسوخ کر دیا تھا، جس پر رائل پام انتظامیہ یہ معاملہ عدالت میں لے گئی تھی۔

گزشتہ برس سپریم کورٹ لاہور رجسٹری نے کیس کی سماعت کے دوران رائل پام انتظامیہ کو بے دخل کر کے میسر فرگوسن کو کلب کا قبضہ لینے اور اِس کا آڈٹ کرنے کا حکم دیا تھا۔

پاکسان مسلم لیگ ن پنجاب کی سیکرٹری اطلاعات عظمیٰ بخاری نے عدالتی فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ جو کام ان کی حکومت نے شروع کیا تھا وہ آج مکمل ہو گیا ہے، لیکن افسوس اِس بات کا ہے کہ اِس کا کریڈٹ شیخ رشید لے رہے ہیں۔

عظمیٰ بخاری نے مطالبہ کیا کہ یہ معاہدہ کرنے میں ملوث سویلین کے علاوہ دیگر پردہ نشینوں کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیئے۔

کلب کا انتظام سنبھالنے کے لیے ریلوے متحرک

چیئرمین ریلوے سکندر سلطان راجہ نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کلب کے معاملات چلانے کے لیے ایک ہنگامی اجلاس طلب کر لیا گیا ہے، قانونی ٹیم کی مشاورت کے بعد لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ 'ہم کوشش کرینگے کہ کلب ممران کو پہلے سے بھی زیادہ سہولتیں دے سکیں۔ کلب کا انتظام سنبھالنے کے دوران تمام فنکشن بدستور جاری رہینگے بلکہ انکو بہتر کیا جائے گا۔ جن لوگوں نے ریلوے کی زمین کو لیز پر دیا تھا ان کے خلاف نیب میں تحقیقات چل رہی ہیں'.

'طاقتور کا سزا ملنا مشکل ہے'

عدالتی فیصلے کو تجزیہ کار بھی احسن قرار دیتے ہیں لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں کسی بھی طاقتور کو سزا نہیں دی جا سکتی۔ سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سیاست دانوں کے علاوہ دیگر لوگوں پر ہی قانون کی گرفت کمزور رہی ہے۔

ان کے بقول اگر بہت بڑا مسئلہ ہو تو کارروائی ہوتی ہے ورنہ معاملہ دبا دیا جاتا ہے۔

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ 'ماضی میں تو ہم نے دیکھا ہے کہ سویلینز معاملات کے اندر جو فوجی ملوث تھے ان میں سے کسی کی گرفت نہیں ہوئی ہاں البتہ فوجی معاملات میں وہ کوتاہی کریں تو ان کی گرفت ہوتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG