رسائی کے لنکس

مولانا عبدالعزیز کو لال مسجد میں خطبہ دینے سے روک دیا گیا


پاکستان کے وفاقی دارالحکومت کی لال مسجد کے سابق خطیب عبدالعزیز کو جمعے کو مسجد میں خطبہ دینے سے روک دیا گیا۔

اس حوالے سے اسلام آباد انتظامیہ اور مولانا عبدالعزیز کے درمیان مذاکرات کے کئی دور ہوئے اور جمعے کی نماز سے کچھ دیر قبل اس بات پر اتفاق ہوا کہ مولانا عبدالعزیز خطبہ دینے نہیں جائیں گے۔

یہ مذاکرات لال مسجد سے کچھ فاصلے پر سیکٹر جی سیون میں ہوئے جہاں جامعہ حفصہ میں برقعہ پوش لاٹھی بردار کئی خواتین بھی نظر آئیں۔

اس موقع پر مرد پولیس اہلکاروں کے علاوہ خواتین پولیس اہلکار بھی تعینات کی گئی تھیں۔

جب کہ نماز جمعے سے قبل ہی لال مسجد کے باہر معمول سے زیادہ پولیس اہلکار تعینات تھے۔

واضح رہے رواں ہفتے لال مسجد سے منسلک 'شہدا فاؤنڈیشن' نے اعلان کیا تھا کہ مولانا عبدالعزیز تین سال بعد آئندہ جمعے کو مسجد میں خطبہ دیں گے۔

تنظیم نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ انتظامیہ مولانا عبدالعزیز کو خطبے سے نہیں روکے گی کیوں کہ لال مسجد کے خطیب اپنے خلاف چلنے والے تمام مقدمات میں بری ہو چکے ہیں۔

تاہم انسانی حقوق کے ایک سرگرم کارکن اور مولانا عبدالعزیز کے خلاف سرگرم رہنے والے جبران ناصر شہدا فاؤنڈیشن کے اس بیان کو ایک مرتبہ پھر میڈیا میں توجہ حاصل کرنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔

اسلام آباد کے قلب میں لال مسجد اور اس سے ملحقہ مدرسہ جامعہ حفصہ اس وقت عالمی ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز بنا تھا جب یہاں کے طلبہ نے 2007ء میں قرب و جوار میں لٹھ بردار کارروائیاں شروع کرتے ہوئے خود کو "ایک اخلاقی فورس" کے طور پر پیش کیا۔

مدرسے کے طلبا کی طرف سے چند چینی شہریوں کو غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں حبسِ بے جا میں رکھے جانے کے بعد جولائی 2007ء میں سکیورٹی فورسز نے مسجد میں انتہا پسندوں کی مبینہ موجودگی پر آپریشن کیا تھا جس میں 11 فوجیوں سمیت 100 کے لگ بھگ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG