رسائی کے لنکس

کالعدم لشکر جھنگوی کے سربراہ کو ہلاک کرنے کا دعویٰ


فائل فوٹو

محکمہ انسداد دہشت گردی کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ فائرنگ کے تبادلے میں چار شدت پسند مارے گئے جب کہ تین رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں محکمہ انسداد دہشت گردی نے ایک کارروائی میں کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی کے سربراہ سمیت چار شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

انسداد دہشت گردی فورس کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ اُن کے محکمے کو خفیہ معلومات ملیں کہ لشکر جھنگوی کے تین شدت پسند رضوان عرف چھوٹو، ڈاکٹر شاکر عرف علی سفیان اور نور الامین اپنے کچھ ساتھیوں کے ہمراہ شیخوپورہ میں ہیں اور وہ لاہور میں ایک حساس ادارے کے عملے اور دفاتر پر حملے کی تیاری کر رہے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ شدت پسند چار موٹر سائیکلوں پر فاروق آباد سے شیخوپورہ آ رہے تھے جہاں سے اُنھیں لاہور پہنچنا تھا، تاہم اطلاعات ملنے پر منگل کی شام محکمہ انسداد دہشت گردی نے راستے میں ناکہ لگا دیا اور پولیس نے مشتبہ افراد کو رکنے کا کہا لیکن عسکریت پسندوں نے رکنے کی بجائے قریب ہی علاقے میں پوزیشن سنبھال کر اہلکاروں پر فائرنگ شروع کر دی۔

محکمہ انسداد دہشت گردی کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ فائرنگ کے تبادلے میں چار شدت پسند مارے گئے جب کہ تین رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ۔

ترجمان کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں رضوان عرف چھوٹو کا تعلق مظفر گڑھ سے تھا اور وہ اس وقت لشکر جھنگوی کی قیادت کر رہا تھا۔

محکمہ انسداد دہشت گردی کے مطابق حکومت نے اُس کے سر کی قیمت 30 لاکھ روپے مقرر کر رکھی تھی۔ ترجمان کے مطابق رضوان عرف چھوٹو پنجاب، سندھ، خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں 100 سے زائد افراد کے قتل میں براہ راست ملوث تھا جب کہ وہ لگ بھگ 200 افراد کی ہلاکت میں بلاواسطہ شامل تھا۔

رضوان چھوٹو کے بارے میں محکمہ انسداد دہشت گردی کا کہنا ہے کہ وہ 2005 سے 2012 تک حراست میں بھی رہا لیکن ضمانت پر رہائی کے بعد مفرور ہو گیا اور رہائی کے بعد بھی درجنوں افراد کے قتل میں ملوث رہا۔

جھڑپ میں مارے جانے والا ڈاکٹر شاکر عرف علی سفیان صوبہ خیبر پختونخواہ میں لشکر جھنگوی کا امیر تھا اور محکمہ انسداد دہشت گردی کے مطابق وہ پنجاب اور خیبرپختونخواہ 50 میں سے زائد افراد کے قتل میں ملوث تھا۔

نور الامین کا تعلق بھی خیبر پختونخواہ سے بتایا گیا اور وہ راولپنڈی میں انسپکٹر راجہ ثقلین کے قتل کے علاوہ 20 افراد کے قتل میں ملوث تھا۔ حکومت نے اُس کے سر کی قیمت 10 لاکھ روپے مقرر کر رکھی تھی۔

محکمہ انسداد دہشت گردی کے بیان میں کہا گیا کہ ان شدت پسندوں کی ہلاکت سے دہشت گردی اور ہدف بنا کر لوگوں کو ہلاک کرنے کا ایک بڑا باب ختم ہو گیا کیوں کہ ’’یہ افراد لوگوں کو بے رحمانہ طریقے سے قتل کرنے کی مشین تھے۔‘‘

تاہم اس کارروائی اور مارے جانے افراد سے متعلق سرکاری طور پر فراہم کردہ تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے کیوں کہ رات کی تاریکی میں جس علاقے میں یہ کارروائی کی گئی وہاں اس وقت میڈیا کی رسائی نہیں تھی۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے اس طرح کی کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔

پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کے رکن تاج حیدر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ پنجاب میں موجود شدت پسندوں کے خلاف اس طرح کی کارروائی کے مطالبات تو طویل عرصے سے کیے جاتے رہے ہیں، لیکن اُن کے بقول ماضی میں اس جانب توجہ نہیں دی گئی۔

’’انسداد دہشت گردی کے قومی لائحہ عمل میں یہ درج ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف زیرو ٹارلرنس (یعنی اُن سے کوئی رعایت نہیں) ہو گی۔۔۔ ایک لمبے عرصے تک (پنجاب) میں کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔۔۔ اب کچھ کارروائیاں ہوں رہی ہیں اور ہم اُن کو خوش آئند کہیں گے اور یہ جاری رہنا چاہیئے۔‘‘

واضح رہے کہ اس سے قبل صوبہ پنجاب میں محکمہ انسداد دہشت گردی کی طرف سے ایسی ہی کارروائیوں میں القاعدہ، داعش اور دیگر شدت پسند تنظیموں کے عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا جاتا رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG