رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان کے اکثر علاقوں میں انسداد پولیو مہم کا آغاز


فائل فوٹو

پولیو وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوششوں کے سلسلے میں پیر سے پاکستان کے تین صوبوں اور قبائلی علاقوں میں تین روزہ انسداد پولیو مہم کا آغاز ہوا۔

اس مہم کے دوران پنجاب کے آٹھ، بلوچستان کے 20، خیبر پختونخواہ کے 17اضلاع اور قبائلی علاقوں میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔

اس مہم کے دوران پنجاب میں تقریباً 70 لاکھ، بلوچستان میں 17 لاکھ جب کہ خیبر پختونخواہ اور قبائلی علاقوں میں 50 لاکھ بچوں کو یہ ویکسین پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

پاکستان کا شمار دنیا کے ان تین ملکوں میں ہوتا ہے جہاں انسانی جسم کو مفلوج کر دینے والی بیماری پولیو کے وائرس پر تاحال پوری طرح قابو نہیں پایا جا سکا ہے۔ دیگر دو ملکوں میں افغانستان اور نائیجیریا شامل ہیں۔

لیکن ماضی کی نسبت پاکستان میں انسداد پولیو کے لیے کی جانے والی مسلسل اور موثر کوششوں کی وجہ سے اس موذی وائرس سے متاثرہ کیسز کی تعداد میں بتدریج اور قابل ذکر کمی دیکھے میں آئی ہے۔

رواں سال اب تک ملک کے مختلف علاقوں سے پولیو وائرس کے صرف آٹھ کیسز رپورٹ ہوئے جب کہ گزشتہ سال یہ تعداد 20 تھی۔ سال 2015ء میں پولیو کے 54 کیسز رپورٹ ہوئے تھے جب کہ 2014ء میں ریکارڈ 306 کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔

انسداد پولیو سے متعلق بین الاقوامی ادارے پاکستان کی ان کاوشوں کو سراہتے ہوئے بھرپور مہم کے تسلسل پر زور دیتے آ رہے ہیں تاکہ اس ملک سے پولیو وائرس کا مکمل خاتمہ ہو سکے۔

حالیہ برسوں میں انسداد پولیو مہم سے وابستہ ٹیموں پر شدت پسندوں کی طرف سے مہلک حملے بھی کیے جاتے رہے ہیں جس کی وجہ سے نہ صرف یہ مہم متاثر ہوتی رہی ہے بلکہ درجنوں افراد کو اپنی جان سے بھی ہاتھ دھونا پڑے۔

سلامتی کے خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے انسداد پولیو مہم سے وابستہ ٹیموں کے لیے سکیورٹی کے موثر اقدام بھی کیے گئے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG