رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت کے جواب میں پاکستان کی سفارتی مہم


پاکستان کا دفتر خارجہ ۔ فائل فوٹو

پاکستان نے بھارت کی جانب سے کشمیر میں 40 سے زیادہ سیکورٹی اہل کاروں کی ہلاکت کے بعد پاکستان کو الگ تھلگ کرنے کی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے ایک بھرپور سفارتی مہم شروع کی ہے۔

بھارت اس خودکش حملے کا الزام پاکستان پر لگاتا ہے جو ایک 20 سالہ کشمیری نوجوان عادل احمد ڈار نے کیا تھا۔ بھارت کا کہنا ہے کہ حملہ آور کو سرحد پار سے معاونت حاصل تھی۔

سفارتی اور دیگر ذرائع کا کہنا ہے کہ جمعے کے روز پلوامہ کے قریب ہونے والے حملے کے بعد سے پاکستانی عہدے دار اسلام آباد میں اب تک کم ازکم 70 سے 80 تک غیر ملکی سفارت کاروں کو بریفنگ دے چکے ہیں۔

اپنی بریفنگ میں پاکستان نے بھارت کی جانب سے کسی مناسب تفتیش کے بغیر اپنے ہمسایہ ملک کو مورود الزام ٹہرانے کی بھارتی مہم پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ممکن ہے کہ یہ حملہ بھارت کے اندر موجود کسی گروپ کی جانب سے کیا گیا ہو۔

پاکستانی عہدے داروں نے کچھ غیر ملکی سفارت کاروں کو بتایا کہ بھارت میں ایسے لوگ موجود ہیں جو یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان اور کشمیر کو دنیا کے سامنے مسخ کر کے پیش کریں۔

غیر ملکی سفیروں کو بریفنگ دینے والے پاکستانی عہدے داروں نے حملے کی ٹائمنگ پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حملے کے لیے ایک ایسے وقت کا انتخاب کیا گیا جس کا بھارت سے زیادہ پاکستان کو نقصان ہو۔ یہ حملہ جمعے کے روز ہوا جب کہ اس سے اگلے دن سعودی عرب کے ولی عہد سلمان بن محمد پاکستان کی معاشی مدد کے لیے اربوں ڈالروں کی سرمایہ کاری کے ساتھ دورے پر آنے والے تھے۔ یہ حملہ پیرس میں انٹرنیشنل فنانشل ٹاسک فورس کے اجلاس سے پہلے ہوا، جو پہلے ہی دہشت گردوں کی فنڈنگ کے قوانین سے متعلق پاکستان کی جانچ پرکھ کر رہا ہے۔

پاکستان نے سفارت کاروں کو یہ بھی بتایا کہ بھارت کی موجودہ انتظامیہ آئندہ ہونے والے انتخابات میں پاکستان مخالف نعرے کو ووٹوں کے حصول کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور اپریل میں انتخابات شروع ہونے سے پہلے مزید حملوں کا امکان بھی موجود ہے۔

دوسری جانب بھارت نے بھی کم از کم 25 سفارت کاروں کو بریفنگ دی ہے جن میں اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کے پانچ مستقل ارکان، یعنی چین، فرانس، روس، برطانیہ، اور امریکہ شامل ہیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت نے انہیں بتایا کہ پاکستان مبینہ طور پر جیش محمد کی مدد کرتا ہے جس نے ہلاکت خیز حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

جیش محمد کے لیڈر مسعود اظہر کو بھارت نے 1999 میں اپنے ہائی جیک ہونے والے ایک طیارے کے مسافروں کی رہائی کے بدلے آزاد کیا تھا، جو اس کے بعد سے مسلسل پاکستان میں رہ رہا ہے۔

پاکستان نے 2002 میں جیش محمد پر پابندی لگا دی تھی لیکن سیکورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس گروپ کو نام بدل کر کام کرنے کی اجازت دی گئی۔ یہ گروپ اقوام متحدہ کی دہشت گردوں کی فہرست پر موجود ہے۔ بھارت مسعود اظہر پر اقوام متحدہ کی پابندیاں لگوانے کی متعدد کوششیں کر چکا ہے، جنہیں پاکستان کے دوست چین نے ناکام بنا دیا۔

حملے کے بعد امریکہ کی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ پاکستان کو جیش محمد اور اپنے علاقے سے کارروائیاں کرنے والے تمام دہشت گرد گروپس کے خلاف لازماً کارروائی کرنی چاہیے۔

جب کہ امریکی وزیر خارجہ مائیکل پومپیو نے اپنی ٹویٹ میں پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی سیکورٹی کے لیے خطرہ بننے والے دہشت گردوں کو محفوظ ٹھکانے فراہم نہ کرے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG