رسائی کے لنکس

’داعش‘ کے نظریات کو سختی سے کچلنا ہو گا: پاکستانی قانون ساز


سینیٹر طاہر مشہدی کا کہنا تھا کہ ایسے فعل کا ارتکاب کرنے والے انسان کہلانے کے بھی لائق نہیں ہیں۔

شدت پسند تنظیم ’داعش‘ کی طرف سے اردن کے پائلٹ سمیت دیگر افراد کو قتل کر کے ان کی وڈیو جاری کرنے جہاں عالمی سطح پر مذمت کی جا رہی ہے وہیں پاکستانی قانون ساز بھی ایسے پرتشدد اقدامات کو اسلام کا تشخص خراب کرنے کی مذموم کوشش قرار دے رہے ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ کے سینیٹر طاہر مشہدی کا کہنا تھا کہ ایسے فعل کا ارتکاب کرنے والے انسان کہلانے کے بھی لائق نہیں ہیں۔

’’ان میں انسانی سوچ، انسانی خیال اور انسانی عزت و وقار اور ان میں کوئی بھی انسانی صفت موجود نہیں ہے۔ اگر آپ ان کو انسان سمجھو گے تو آپ جنگ ہار جاؤ گے۔‘‘

پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے قانون ساز سعید غنی کہتے ہیں کہ شدت پسند خوف پیدا کر کے لوگوں کو اپنے ساتھ شامل کرنا چاہتے ہیں اور ان کے خلاف سخت ترین اقدام کرنے کی ضرورت ہے۔

’’میرا خیال ہے کہ وہ لوگوں کو خوف زدہ کر کے اپنی رائے ان پر مسلط کرنا چاہتے ہیں اس کے علاوہ تو کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ صرف مذمت کرنے سے یہ چیزیں ٹھیک نہیں ہوں گی۔ ہمیں ان عام لوگوں کو جن کو یہ خوف زدہ کرنا چاہتے ہیں ان کو حوصلہ دینے کی ضرورت ہے اور انہیں ان کے سامنے کھڑا کرنے کی ضرورت ہے‘‘۔

سینیٹر سعید غنی نے کہا کہ داعش جیسی تنظیموں کے نظریات کو سختی سے کچلنا ہو گا۔

’’جوکچھ وہ کر رہے ہیں اس میں تو جو عام کتابوں میں درج سزائیں ہیں وہ ان کے لیے بہت چھوٹی ہیں۔ میں نہیں سمجھتا کہ صرف سزاؤں سے کام چلے گا۔ وہ ایک مائنڈسیٹ ہے اس کو بڑی سختی سے کچلنا ہو گا۔‘‘

شدت پسند تنظیم داعش نے گزشتہ سال عراق و شام کے مختلف حصوں پر قبضہ کر کے وہاں خلافت کا اعلان کیا اور ان علاقوں میں رہنے والے دیگر مسالک کے لوگوں اور مذہبی اقلیتوں کو اپنی قتل و غارت کا نشانہ بنانا شروع کیا۔

یہ گروپ امریکہ اور مغربی ملکوں کے علاوہ جاپان اور عرب ممالک کے متعدد لوگوں کو یرغمال بنانے کے بعد ہلاک کر چکا ہے۔

رواں ہفتے ہی اس نے ایک جاپانی صحافی کا سر قلم کیا جب کہ ایک روز قبل اس نے یرغمال بنائے گئے اردن کے ایک پائلٹ کو زندہ جلانے کی وڈیو بھی جاری کی۔

داعش کی سرگرمیوں کو امریکہ سمیت بین الاقوامی برادری عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے اس کی انسانیت سوز وحشیانہ کارروائیوں کی مذمت کر چکی ہے۔

حالیہ مہینوں میں پاکستان میں بھی ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں گردش کرتی رہی ہیں کہ اس ملک میں داعش کے حامی موجود ہیں لیکن حکومتی عہدیدار تاحال ایسے کسی گروہ کی پاکستان میں موجودگی سے انکار کرتے آرہے ہیں۔

امریکہ کی زیر قیادت بین الاقوامی اتحاد نے شام اور عراق میں داعش کے خلاف فضائی کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں جس میں شدت پسندوں کو خاصا نقصان اٹھا پڑا ہے لیکن ان کی طرف سے یرغمالیوں کو ہلاک کرنے کے واقعات کے بعد خیال کیا جا رہا ہے کہ اس گروپ کے خلاف کارروائیاں مزید تیز ہو جائیں گی۔

ایک روز قبل ہی ایک بیان میں امریکہ کے صدر براک اوباما یہ کہہ چکے ہیں کہ داعش کے خلاف بین الاقوامی اتحاد کو انتہا پسندوں کو شکست دینے کے لیے کارروائیوں کو تیز تر کرنا ہو گا۔

XS
SM
MD
LG