رسائی کے لنکس

logo-print

لوڈشیڈنگ کے خلاف پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ جاری


لوڈشیڈنگ کے خلاف پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ جاری

جو صنعتی مزدور کارخانے بند ہونے کے سبب بے روزگار ہورہے ہیں ان کی تعداد لوڈشیڈنگ بڑھنے کے ساتھ ساتھ بڑھ رہی ہے۔

ملک بھر میں لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج جاری ہے جب کہ پنجاب کے کچھ شہروں سے اتوار کو پرتشدد مظاہروں کی اطلاعات بھی ملی ہیں۔ گوجرانوالہ میں مشتعل افراد نے توڑپھوڑ کی، ٹائروں کو آگ لگائی اور جی ٹی روڈ کو کئی گھنٹوں تک بند رکھا۔

اس پس منظر میں وفاقی وزیر پانی وبجلی راجہ پرویز اشرف نے صحافیوں کو بتایا کہ گرمی کی شدت میں اضافے، ڈیموں میں پانی کی کمی اور بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں میں بوجہ تاخیر کے سبب ملک میں بجلی کی مانگ اور پیداوار میں پانچ ہزار میگاواٹ کا فرق ہوگیا ہے جس کو پورا کرنے کے لیے ہونے والی لوڈشیڈنگ سے عوام کو جس مشکل کا سامنا ہے. ان کے بقول حکومت اس سے غافل نہیں ہے اور جتنی بجلی موجود ہے اس سے عوام کو زیادہ سے زیادہ فراہمی کے لیے انھوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ خود پاور سنٹر میں موجود رہیں گے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ واپڈا اورپیپکو کے تمام ملازمین کی چھٹیاں منسوخ کردی ہیں اور یہ سب لوگ اپنے اپنے دفاتر میں ہوں گے۔ ان کا کہناتھا کہ آئندہ ایک سے ڈیڑھ ماہ میں کچھ نئے پراجیکٹس سے مزید بجلی ملنا شروع ہوجائے گی اور پانی کی فراہمی بہتر ہونے سے ہائیڈل بجلی کی پیدوار میں اضافہ ہوگا جس سے ان کے بقول صورتحال بہتر ہوجائے گی۔

وزیر موصوف کا کہنا تھا کہ صدر اور وزیراعظم نے بھی عوام کی تکالیف کو کم سے کم کرنے کی خصوصی ہدایات کی ہیں۔

واضح رہے کہ ملک میں بجلی کی کمی کی وجہ سے صنعتی پیداوار بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے اور جو صنعتی مزدور کارخانے بند ہونے کے سبب بے روزگار ہورہے ہیں ان کی تعداد لوڈشیڈنگ بڑھنے کے ساتھ ساتھ بڑھ رہی ہے۔

XS
SM
MD
LG