رسائی کے لنکس

logo-print

بجلی کے بحران میں وسط اپریل تک بہتری کی توقع ہے


بجلی کے بحران میں وسط اپریل تک بہتری کی توقع ہے

پاکستان میں بجلی کی مانگ اور اس کی فراہمی میں چار ہزار میگا واٹ سے زیادہ کا فرق آگیا ہے جس سے ملک بھر کے شہری علاقوں میں آٹھ سے دس گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ جب کہ دیہات میں اس سے بھی زیادہ لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے ۔ تاہم پیپکو کے ترجمان انجینئر محمد خالد نے وائس آف امریکہ کے ساتھ گفتگومیں کہا ہے کہ کوٹ ادھو میں سالانہ مینٹینینس کی وجہ سے جو پاور پلانٹ بند تھے وہ ایک ایک کر کے دوبارہ چلنا شروع ہو گئے ہیں جس سے ان کے بقول مارچ کے آخر تک ایک ہزار میگا واٹ تک مزید بجلی سسٹم میں آجائے گی ۔

ا’دھر پاکستان کے تاجراور صنعنت کار اس صورت حال سے انتہائی غیر مطمئن ہیں۔فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی ایکسپورٹ کمیٹی کے چیئر مین اظہر مجید نے اس حوالے سے وائس آف امریکہ کے ساتھ گفتگومیں کہا کہ پور ا شہر تاریکیوں میں ڈوبا ہوا ہے اور انڈسٹری بھی ختم ہو گئی ہے ۔چار بلین ڈالرکے ایکسپورٹ کے آرڈرز ان ہینڈ وہ سپلائی نہیں ہو سکے۔ٹیکسٹائل کی ایکسپورٹ جو 13, 14بلین ڈالر ہوتی تھی وہ نو بلین ڈالر پر آ گئی۔

دریں اثنا وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اتوار کو ملتان میں ایک تقریب سے خطاب میں کہا ہے کہ حکومت مہنگائی ، بیروز گاری اور لوڈ شیڈنگ کے مسائل سے غافل نہیں ہے اور یہ ان کی حکومت اب عوام کے ان مسائل کوحل کرنے کے لیے تند دہی سے کوششیں کر رہی ہے۔

XS
SM
MD
LG