رسائی کے لنکس

امریکہ میں پاکستان کے لیے لابنگ کرنے والے نثار چوہدری کا اقرار جرم


نثار احمد چوہدری، فائل فوٹو

امریکہ میں پاکستان کے لیے لابنگ کرنے والے نثاراحمد چوہدری نے اپنے خلاف ان الزامات کو قبول کر لیا ہے کہ انہوں نے خود کو ایک غیر ملکی ایجنٹ کے طور پر خود کو رجسٹر نہیں کرایا تھا۔

اس بات کا اعلان نیشنل سیکیورٹی کے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل جان ڈیمرز، ریاست میری لینڈ کے اٹارنی رابرٹ ہر ٹ اور سپیشل ایجنٹ گورڈن جان سن نے ایف بی آئی کے فیلڈ آفس میں کیا۔

نثار چوہدری جن کی عمر 71 سال ہے اور جو ریاست میری لینڈ کے رہنے والے ہیں، پاکستان کے حق میں لابنگ کا کام کر رہے تھے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے پاکستان امریکن لیگ کے نام سے ایک ایسوسی ایشن بنائی تھی۔

انہوں نے اپنے بیان میں یہ اعتراف کیا کہ وہ حکومت پاکستان کے حق میں امریکہ میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھے جس کے لیے خود کو رجسٹر کرانا ضروری تھا جس میں وہ ناکام رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ 2012 سے 2018 تک پاکستان کے مفاد کے لیے امریکی پالیسیوں کی جانچ پرکھ کرتے۔ انہوں نے یہ اعتراف بھی کیا کہ ان کا مقصد پاکستان کے حق میں امریکی خارجہ پالیسی کو متاثر کرنا تھا۔

نثار چوہدری کے اعترافی بیان پر وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے تجزیہ کار شجاع نواز نے کہا ہے نثار چوہدری کو اپنے آپ کو فارن ایجنٹ رجسٹریشن ایکٹ کے تحت رجسٹر کرانا چاہیےتھا۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی بیرونی ملک کے مفادات کے لیے کام کرنے والوں کو عموماً ڈاک یا ٹیلی فون کے ذریعے یہ یادہانی کرائی جاتی ہے کہ وہ 1938 کے قانون کے تحت اپنا اندارج کرائیں۔

امریکی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ ایکٹ ایک طویل عرصے سے موجود ہے لیکن اس کا اطلاق بہت مدت کے بعد کیا گیا ہے۔

ری پبلکن پارٹی کے عہدے دار طلعت رشید کہتے ہیں کہ نثار چوہدری پاکستان کے حق میں تقاریر کرتے رہتے تھے اس لیے ضروری تھا کہ وہ قانون کے مطابق غیرملکی ایجنٹ کے طور پر اپنا اندارج کراتے۔

مزید تفصیلات کے لیے اس آڈیو لنک کر کلک کریں۔

please wait

No media source currently available

0:00 0:02:54 0:00

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG