رسائی کے لنکس

فائربندی معاہدے کی 'خلاف ورزیوں' پر پاکستان کا بھارت سے احتجاج


پاکستانی فوج کے عہدیدار لائن آف کنٹرول پر کھڑے ہیں (فائل فوٹو)

پاکستان نے متنازع علاقے کشمیر کو تقسیم کرنے والی عارضی حدبندی (لائن آف کنٹرول) کے پار سے بھارتی فورسز کی "بلا اشتعال" فائرنگ سے اپنے شہریوں کی ہلاکت پر اتوار کو ایک بار پھر اسلام آباد میں اعلیٰ بھارتی سفارتکار کو طلب کر کے اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔

دفتر خارجہ سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا کہ لائن آف کنٹرول پر بھارتی فورسز کی "بلااشتعال" فائرنگ سے پاکستانی کشمیر میں پانچ شہری ہلاک اور دیگر دس زخمی ہوگئے تھے۔

دفتر خارجہ میں جنوبی ایشیا اور سارک کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد فیصل نے نائب بھارتی ہائی کمشنر جے پی سنگھ کو طلب کر کے فائر بندی کی "بلا اشتعال خلاف ورزیوں" کی مذمت کی۔

بیان کے مطابق پاکستانی عہدیدار نے اپنے ملک کی طرف سے احتجاجی مراسلہ بھارتی سفارتکار کے حوالے کیا۔

محمد فیصل نے بھارت پر زور دیا کہ وہ 2003ء کے فائر بندی معاہدے کا احترام کرے اور فائربندی کی خلاف ورزیوں کے واقعات کی تحقیقات کرے۔

انھوں نے اپنے ملک کا موقف دہراتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے فوجی مبصر مشن کو لائن آف کنٹرول کی جائزہ لینے کی اجازت دیا جانا بے حد ضروری ہے۔

ایک روز قبل بھی بھارتی نائب ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کر کے لائن آف کنٹرول پر فائر بندی کی "خلاف ورزی" پر احتجاج کیا گیا تھا۔

دونوں ملکوں کے درمیان لائن آف کنٹرول پر 2003ء میں فائربندی کا معاہدہ ہوا تھا لیکن اس کے باوجود یہاں آئے روز فائرنگ و گولہ باری کے تبادلے دیکھنے میں آتے رہتے ہیں۔

دونوں ہمسایہ ایٹمی قوتیں خلاف ورزیوں میں پہل کا الزام ایک دوسرے پر عائد کرتی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG