رسائی کے لنکس

قرآن کی لازمی تعلیم دینے کا مسودہ قانون قومی اسمبلی سے منظور


فائل فوٹو

ماہر تعلیم ڈاکٹر اے ایچ نئیر کہتے ہیں کہ زیادہ ضروری بچوں کو تعلیم دینا ہے اور اس ریاستی فرض پر حکومتیں کوئی ٹھوس پیش رفت کرتی دکھائی نہیں دیتی۔

پاکستان کے ایوان زیریں نے تعلیمی اداروں میں مسلمان طلبا کے لیے قرآن کی ناظرہ تعلیم کو لازمی قرار دینے کا مسودہ قانون متفقہ طور پر منظور کر لیا ہے۔

بدھ کو وزیرمملکت برائے تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت بلیغ الرحمن نے قومی اسمبلی میں یہ بل پیش کیا جس کی قائمہ کمیٹی رواں سال فروری میں منظوری دی چکی تھی۔

اس مجوزہ قانون کے تحت وفاق کے زیر انتظام اور وفاقی دارالحکومت کی حدود میں واقع تمام سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں طلبا کے لیے قرآن کی تعلیم لازمی ہوگی۔

پہلی سے پانچویں جماعت تک کے بچوں کو صرف ناظرہ قرآن پڑھایا جائے گا جب کہ چھٹی سے بارہویں جماعت تک قرآن کی ترجمے کے ساتھ تعلیم دی جائے گی۔

وزیرمملکت بلیغ الرحمن نے ایوان کو بتایا کہ قرآن کی لازمی تعلیم دینا مذہبی اور آئینی ذمہ داری ہے جسے اس قانون کو منظور کر کے پورا کیا جا رہا ہے۔

حکومت کی طرف سے قانون سازی کے لیے کی جانے والی کوششوں کے وقت سے مبصرین یہ کہتے آ رہے ہیں کہ اسکولوں میں قرآن کی تعلیم دینے میں کوئی مضائقہ نہیں لیکن حکومت تعلیم کے سلسلے میں ہی دیگر ضروری اور آئینی ذمہ داریاں پوری کرنے کی طرف سنجیدگی سے توجہ نہیں دے رہی۔

آئین کی شق 25 (اے) کے تحت پانچ سے سولہ سال تک کی عمر کے ہر بچے کو مفت تعلیم دینا ریاست کی ذمہ داری ہے اور اس ضمن میں قانون بھی گزشتہ برسوں میں بنایا جا چکا ہے لیکن اس کے باوجود پاکستان میں اسکول جانے کی عمر کے تقریباً دو کروڑ 20 لاکھ بچے تعلیم حاصل نہیں کر رہے۔

ماہر تعلیم ڈاکٹر اے ایچ نئیر کہتے ہیں کہ اس نئے قانون کی منظوری سے حکومت کو مزید کچھ اور کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی اور نہ ہی اس سے اس کے خزانے پر بوجھ پڑے گا جب کہ زیادہ ضروری بچوں کو تعلیم دینا ہے اور اس ریاستی فرض پر حکومتیں کوئی ٹھوس پیش رفت کرتی دکھائی نہیں دیتی۔

"میرا خیال ہے اکثر بچوں کے لیے پہلے دس سالوں تک (قرآن کی) تعلیم ان کے گھروں پر ہو چکی ہوتی ہے یہ سب کرنا غیر ضروری ہے حکومت نے ایسا کام کر دیا کہ جس میں اس کو مزید اور کچھ کرنے کی ضرورت نہیں۔۔۔ میرا نہیں خیال جو اصل کام ہے وہ انھوں نے کبھی کیا ہے جو کرنا چاہیے۔"

مسودہ قانون کے مطابق اس اقدام سے اسلام کی تعلیمات اور آفاقی پیغام کو صحیح معنوں میں سمجھانے میں مدد مل سکے گی۔

حکومت میں شامل عہدیدار یہ کہتے آئے ہیں کہ وہ بچوں کو تعلیم کا حق دینے کے لیے مختلف اقدام کر رہے ہیں جس میں تعلیمی شعبے کے لیے سالانہ بجٹ میں بتدریج اضافہ، اسکولوں کی حالت بہتر بنانے، اساتذہ کی حاضری کو یقینی بنانے اور بچوں کی داخلہ مہم شامل ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG