رسائی کے لنکس

پاکستان کے سیاحتی شہر سوات کے علاوہ شانگلا میں اطلاعات کے مطابق جمعے کے روز سیکیورٹی سخت رہی تاہم حکام کی طرف سے باضابطہ طور پر تاحال یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ کیا یہ اقدامات نوبیل امن انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کے ممکنہ دورے سے متعلق تھے یا نہیں۔

ملالہ یوسفزئی بدھ کی شب پاکستان پہنچی تھی اور جمعرات کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں اُنھوں نے ایک مصروف دن گزار جہاں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کے علاوہ ایک خصوصی تقریب میں شرکت بعد کئی ملاقاتیں بھی کیں۔

ملالہ کا تعلق سوات سے ہے اور اُنھیں 9 اکتوبر 2012ء کو سوات کے مرکزی شہر مینگورہ میں اسکول سے گھر واپس جاتے ہوئے طالبان شدت پسندوں نے سر میں گولی مار کر شدید زخمی کر دیا تھا۔

پاکستان میں ابتدائی علاج کے بعد ملالہ کو برطانیہ منتقل کر دیا گیا تھا جہاں صحت یابی کے بعد وہ اپنی تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ملک سے باہر جانے کے بعد وہ لگ بھگ ساڑھے پانچ سال بعد پہلی مرتبہ پاکستان واپس لوٹی ہیں۔

اُدھر اطلاعات کے بعد صوبہ پنجاب کے بعض نجی اسکولوں میں ’میں ملالہ نہیں ہوں‘ کے نام سے جمعے کو دن منایا گیا لیکن اس کا زیادہ اثر دیکھنے میں نہیں آیا۔

ماہر تعلیم اے ایچ نئیر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ملالہ قوم کی ہیرو ہیں اور اُن کی آمد پر ایسا دن منانے والے بیمار ذہن کی عکاسی کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے جمعرات کو ملالہ کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب میں کہا تھا کہ دنیا نے اُنھیں عزت دی اور پاکستان بھی ملالہ کو عزت دے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG