رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی اعانت سے آموں کی پراسیسنگ کے دوسرے پلانٹ کا افتتاح


امریکی اعانت سے آموں کی پراسیسنگ کے دوسرے پلانٹ کا افتتاح

پاکستان میں امریکی سفیر کیمرون منٹر نے اتوار کے روز ملتان میں جس پراسیسنگ پلانٹ کا افتتاح کیا وہ آموں کو برآمد کے لیے موزوں بنانے والے ان 15 پلانٹوں میں شامل ہے جو بین الاقوامی ترقی کے امریکی ادارے یو ایس ایڈ کے تعاون سے پاکستان کے مختلف حصوں میں واقع آموں کے باغات میں قائم کیے جارہے ہیں۔

اس سلسلے میں پہلا پلانٹ صوبہ سندھ کے شہر حیدر آباد کے ایک فارم میں لگایا جا چکا ہے جو کامیابی سے چل رہا ہے۔

امریکی سفیر کیمرون منٹر نے ملتان کے لطف آباد فارم میں نصب پلانٹ کے افتتاح پر اپنی تقریر میں کہا کہ امریکہ پاکستان کی معاشی ترقی میں دلچسپی رکھتا ہے اور اسی سلسلے میں یو ایس ایڈ پاکستانی آم کی برآمدات کے لیے پراسیسنگ کے کام میں مدد دے رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ گزشتہ برس امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے آم کے برآمد کنندگان کی حوصلہ افزائی کا وعدہ کیا تھا جس پر کام جاری ہے۔

پاکستان میں مینگو گروؤرز ایسوسی ایشن کے صدر زاہد حسین گردیزی نے اس تقریب کے حوالے سے وائس آف امریکہ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”یو ایس ایڈ نے ایک مینگو معاون پروگرام شروع کیا ہوا پاکستان میں اور اس پروگرام کا بنیادی مقصد مینگو سیکٹر کو دینا ہے۔ ہمیں خوشی یہ ہے کہ یو ایس ایڈ کی وجہ سے ہمیں امریکی مارکیٹ تک رسائی مل رہی ہے جس میں وقت کت ساتھ ساتھ اضافہ ہو گا۔‘‘

زاہد حسین گردیزی نے بتایا کہ پاکستانی برآمدات کا ادارہ وزارت تجارت کے تعاون سے 1,200 کلو گرام چونسا آم کی پہلی کھیپ 27 جولائی کو امریکہ روانہ کر رہا ہے۔

پھلوں کے میدان میں پاکستان میں کینو اور مالٹے کے بعد سب سے زیادہ پیداوار آم کی ہے جو سالانہ 18 لاکھ ٹن کے قریب ہے اور اس میں سے محض سوا لاکھ ٹن آم برآمد ہوتے ہیں اس کا بیشتر حصہ قریب میں واقع خلیجی ریاستوں اور سعودی عرب بھیجا جاتا ہے۔

پاکستان میں آموں کی پراسیسنگ کے یو ایس ایڈ کے اس پروگرام میں تین ہزار کاشتکاروں کو تربیت دی جا چکی ہے۔ زاہد حسین گردیزی نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ یو ایس ایڈ کے تعاون سے آم کی پراسیسنگ کے اس منصوبے سے امریکہ کے علاوہ دنیا کے دیگر دور دراز ملکوں میں بھی پاکستانی آم کی برآمد ممکن ہو گی۔

XS
SM
MD
LG