رسائی کے لنکس

logo-print

شمالی وزیرستان میں خسرہ کے ممکنہ پھیلاؤ پر تشویش


خسرہ کا وائرس تیزی سے پھیلتا ہے جسے مناسب ویکسینیشن سے روکا جاسکتا ہے

پاکستان کے شمال مغربی قبائلی علاقے میں حالیہ تین ہفتوں کے دوران خسرے کی وجہ سے کم از کم 12 بچے ہلاک ہو چکے ہیں اور ادویات کی کمی کے باعث یہ وبا پھیل رہی ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق شمالی وزیرستان کے مرکزی قصبے میران شاہ کے ایک بڑے اسپتال کے انچارج ڈاکٹر محمد علی شاہ نے بتایا ہے کہ انھیں فوجی کارروائیوں، بجلی کی بندش اور کرفیو کی وجہ سے ادویات کی کمی کا سامنا ہے۔

یہ علاقہ افغان سرحد سے ملحق ہے اور باور کیا جاتا ہے کہ یہاں عسکریت پسندوں کی پناہ گاہیں موجود ہیں جن پر اکثر و بیشتر مبینہ امریکی ڈرون سے میزائل حملے کیے جاتے ہیں۔

ڈاکٹر شاہ نے بتایا کہ ان کے اسپتال میں گزشتہ تین ہفتوں کے دوران روزانہ پانچ سے دس بچے خسرے کی شکایت کے ساتھ آرہے ہیں۔ ان کے بقول عموماً اس وبا سے سال میں ایک یا دو اموات ہوتی رہی ہیں۔

’’بجلی کی طویل بندش کے باعث ہمارے پاس ویکسین کو محفوظ رکھنے کے لیے مناسب انتظام نہیں ہے اور کرفیو کی وجہ سے بہت سی ادویات زائد المعیاد ہو جاتی ہیں۔‘‘

ڈاکٹر شاہ نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ علاقے میں موبائیل ویکسینیشن ٹیمیں بھیجے اور انھوں نے متنبہ کیا کہ اگر جلد اقدامات نہ کیے گئے تو متعدی بخار پھیلنے کا بھی خطرہ ہے۔

خسرہ کا وائرس تیزی سے پھیلتا ہے جسے مناسب ویکسینیشن سے روکا جاسکتا ہے بصورت دیگر یہ بیماری جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق سال 2010ء میں پوری دنیا میں اس بیماری سے ایک لاکھ 40 ہزار اموات ہوچکی ہیں جس میں سے 95 فیصد کم آمدنی والے اور صحت کی بنیادی سہولتوں سے محروم ممالک میں ہوئیں۔

اس خبر پر تبصرے کے لیے مقامی حکام دستیاب نہیں تھے۔

XS
SM
MD
LG