رسائی کے لنکس

logo-print

وزیراعظم نواز شریف کے دورہ امریکہ کی بھرپور میڈیا کوریج


اسی دوران حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے وزیراعظم کے دورہ امریکہ سے قبل پارلیمان کو اعتماد میں نہ لینے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف ان دنوں امریکہ کے دورے پر ہیں جو کہ 2013ء میں اقتدار سنبھالنے کے بعد ان کا دوسرا دورہ امریکہ ہے۔

اس دورے کو جہاں حکومتی عہدیدار خطے کی سلامتی اور امن کے لیے پاکستانی موقف کو امریکی قیادت کے سامنے پیش کرنے کا ایک اہم موقع قرار دے رہے ہیں وہیں ذرائع ابلاغ میں بھی اس کی اہمیت کو ٹھوک بجا کر دیکھا جا رہا ہے۔

تقریباً سب ہی نجی نیوز چینلز اس دورے کے حوالے سے خصوصی مزاکرے اور بحث پر مبنی پروگرام نشر کر رہے ہیں۔

حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ملکی اقتصادیات کو بہتر کرنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے علاوہ دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی موجودہ حکومت کے چند اہم کام ہیں جو اس نے گزشتہ دو سالوں میں کیے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ خطے میں امن و سلامتی کے لیے بھی اس کے کردار میں اضافہ ہوا ہے۔

تاہم بعض حلقوں کی طرف سے یہ آواز بھی آرہی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن کارروائیوں کے علاوہ افغانستان اور بھارت کے لیے پالیسی میں حکومت سے زیادہ ملک کی طاقتور فوج کا زیادہ اثر ہے۔

حکومت کا اس بارے میں کہنا ہے کہ فوج ملک کا ایک ادارہ ہے اور ملکی معاملات میں اس کی رائے کو بھی خاص اہمیت دی جاتی ہے۔

اسی دوران حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے وزیراعظم کے دورہ امریکہ سے قبل پارلیمان کو اعتماد میں نہ لینے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

پیپلز پارٹی کی مرکزی نائب صدر شیری رحمن کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کے لیے واشنگٹن بہت اہم رہا ہے لہذا یہ ضروری ہے کہ پارلیمان کو معلوم ہو سکے کہ اس دورے میں حکومت کن امور پر کیا نقطہ نظر وہاں پیش کرے گی۔

اس دورے سے قبل وزیراعظم نے پارلیمان سے تو رجوع نہیں کیا لیکن اہم حکومتی وزرا کے علاوہ فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کے ساتھ اہم اجلاس میں اس دورے کے نکات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

وزیراعظم سمیت حکومتی عہدیدار یہ کہہ چکے ہیں اس دورے میں قومی مفاد کو مقدم رکھا جائے گا اور اس پر ان کے بقول کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG