رسائی کے لنکس

logo-print

میڈیا قومی مفاد سے متعلق ’قیاس آرائیوں پر مبنی خبروں سے گریز کرے‘


پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے گزشتہ ہفتے ’قومی سلامتی کمیٹی‘ کے اجلاس کے حوالے سے شائع ہونے والی خبر کو ایک مرتبہ پھر حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے ذمہ داروں کی نشاندہی کر کے اُن کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

ایک سرکاری بیان کے مطابق ’پرنٹ اور الیکٹرانگ‘ میڈیا سے یہ بھی کہا گیا کہ وہ قومی سلامتی کے امور اور ریاست کے مفادات سے متعلق قیاس آرائیوں پر مبنی خبریں دینے سے خود کو باز رکھیں۔

وزیراعظم نے یہ بات پیر کو پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف اور انٹیلی جنس ادارے ’آئی ایس آئی‘ کے ڈائریکٹر جنرل لفٹیننٹ جنرل رضوان اختر سے ملاقات کے بعد ایک بیان میں کہی۔

تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا اجلاس سے متعلق معلومات افشا کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی گئی ہے یا خبر شائع کرنے والے کے خلاف۔

وزیراعظم ہاؤس سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ اس ملاقات میں وزیرخزانہ اسحاق ڈار اور وزیرداخلہ چوہدری نثار بھی شامل تھے۔

سرکاری بیان کے مطابق شرکاء نے انگریزی روزنامہ ’ڈان‘ میں شائع ہونے والی خبر کو ’من گھڑت‘ قرار دیتے ہوئے اُس پر تشویش کا اظہار کیا۔

تاہم ملک کے موقر روزنامہ ’ڈان‘ کی طرف سے اپنی خبر کی تردید شائع نہیں کی گئی اور ادارہ اپنی خبر پر قائم ہے۔

گزشتہ ہفتے وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت ملک کی قومی سلامتی کمیٹی کے ہونے والے اجلاس کے بعد روزنامہ ڈان میں ایک خبر شائع ہوئی تھی، جس میں ذرائع کے حوالے سے اخبار نے کہا تھا کہ ملک کی سیاسی قیادت نے عسکری قیادت سے کہا ہے کہ غیر ریاستی عناصر کے خلاف بلاتفریق کارروائی ضروری ہے بصورت دیگر پاکستان کو عالمی سطح پر تنہائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

خبر میں یہ بھی کہا گیا کہ فوج کی طرف سے سویلین قیادت کو بتایا گیا کہ اگر کسی غیر ریاستی گروہ کے خلاف قانون نافذ کرنے والے ادارے کارروائی کریں گے تو اُس میں کسی طرح کی مداخلت نہیں کی جائے گی جب کہ انٹیلی جنس ادارے ’آئی ایس آئی‘ کے سربراہ اس سلسلے میں خود تمام صوبوں میں جا کر متعلقہ عہدیداروں کو ہدایات بھی دیں گے۔

پیر کو وزیراعظم ہاؤس میں سیاسی و عسکری قیادت کی ملاقات کے بعد جاری بیان کے مطابق شرکاء کا موقف تھا کہ شائع شدہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ اصولوں کی واضح خلاف ورزی ہے، اور خبر میں ’’سیاق وسباق‘‘ اور حقائق کے خلاف موقف پیش کر کے اہم قومی مفادات کو خطرے میں ڈالا گیا ہے۔

وزیراعظم نے مذکورہ خبر کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ہدایت کی کہ ذمہ داروں کی نشاندہی کر کے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

اجلاس کے شرکا نے اس عزم کو دہرایا کہ فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیاں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مرکزی کردار ادا کرتی رہیں گی اور بیان کے مطابق تمام فریقین اتفاق رائے سے شدت پسندوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رکھیں گے۔

روزنامہ ڈان کی وضاحت

انگریزی روزنامہ ’ڈان‘ نے پاکستانی وزیراعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان کے بعد کہا کہ کچھ باتوں کی وضاحت اور کچھ چیزوں کو ریکارڈ پر لانا ضروری سمجھتا ہے۔

اخبار کے مطابق ’’پہلی بات تو یہ ہے کہ اس اخبار نے اپنے قارئین سے عہد کیا ہوا ہے کہ شفاف، آزاد اور سب سے بڑھ کر مستند رپورٹنگ کو جاری رکھا جائے گا۔‘‘

اخبار کے مطابق وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق جس خبر کو ’’من گھڑت‘‘ قرار دے کر مسترد کیا گیا ’’ڈان نے اس کی تصدیق کی، کراس چیک کیا اور اس میں موجود حقائق کو جانچا تھا۔‘‘

اخبار کے مطابق بیشتر امور سے آگاہ سینیئر عہدیداروں اور اجلاس میں شریک افراد سے معلومات لینے کے لیے اخبار نے رابطہ کیا اور ان میں سے ایک سے زائد ذرائع نے تفصیلات کی تصدیق اور توثیق کی۔

’’لہذا منتخب حکومت اور ریاستی ادارے ذرائع ابلاغ کو ہدف بنانے اور ملک کے سب سے قابل احترام اخبار کو ایک مہم کے ذریعے قربانی کا بکرا بنانے سے گریز کریں۔‘‘

اُدھر اطلاعات کے مطابق یہ خبر دینے والے ڈان کے صحافی سیرل المیڈا کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈال دیا گیا ہے۔

تاہم سرکاری طور پر اس بارے میں کچھ نہیں کہا گیا۔

واضح رہے کہ ’’ایگزٹ کنٹرول لسٹ‘‘ میں اُن افراد کے ناموں کو شامل کیا جاتا ہے جن کے ملک سے باہر جانے پر پابندی عائد ہوتی ہے۔

XS
SM
MD
LG