رسائی کے لنکس

logo-print

نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ناکافی سہولتیں پریشانی کا باعث


ذہنی امراض کے ایک شفاخانے کا منظر

ہر سال 10 اکتوبر کو پاکستان میں بھی ذہنی صحت کا عالمی دن منایا جاتا ہے اور اس کا مقصد ذہنی صحت کی اہمیت اور اس سے جڑے مسائل کے علاج کی سہولتوں کے بارے میں معلومات کو عام کرنا ہے کیوں کہ طبی ماہرین کے مطابق صحت مند ذہن کسی بھی معاشرے کی سماجی، سائنسی اور معاشی ترقی کی ضمانت ہوتا ہے۔

پاکستان میں ذہنی امراض ڈاکٹروں کے لیے طویل عرصے سے ایک چیلنج بنے ہوئے ہیں لیکن ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں کے دوران معاشی مسائل میں اضافے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد عدم تحفظ کی عمومی صورت حال سے لوگوں کی ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

ڈاکٹر رضوان تاج دارالحکومت اسلام آباد میں سرکاری اسپتال پاکستان انسٹیویٹ آف میڈیکل سائنسز میں شعبہ نفسیات کے سربراہ ہیں۔ ذہنی صحت کے دن کی مناسبت سے وائس آف امریکہ سے ایک انٹرویو میں انھوں نے انکشاف کیا کہ اس وقت پاکستان میں 15 سے 20 فیصد افراد کو ذہنی مسائل کا سامنا ہے۔

’’اس میں صرف دہشت گردی کے واقعات کا عمل دخل نہیں ہے بلکہ عدم تحفظ، غربت، آبادی میں اضافہ اور بنیادی ضروریات کے مسائل سمیت بہت ساری وجوہات ہیں جن کا ذہنی صحت پر بڑا گہرا اثر پڑتا ہے۔‘‘

ڈاکٹر رضوان تاج کہتے ہیں کہ پاکستان میں اندازاً تین کروڑ افراد کسی نا کسی نوعیت کے نفسیاتی امراض میں مبتلا ہیں لیکن ان کے علاج کے لیے صرف 450 ماہرین نفسیات ہیں جب کہ تمام سرکاری اسپتالوں میں ایسے مریضوں کے لیے محض 2200 بستر مختص ہیں۔

لیکن انھوں نے کہا کہ ہر نفسیاتی مرض کے علاج کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری نہیں ’’ کھانے پینے کی عادات میں تبدیلی، ورزش کو معمول بنانے اور اپنے وسائل میں رہتے ہوئے زندگی گزارنے سے ذہنی صحت کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔‘‘

پاکستان میں عالمی ادارہ صحت ’ڈبلیو ایچ او‘ کے ایک اعلیٰ عہدیدار ڈاکٹر خضر ظہیر نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ پاکستان کا شمار بھی دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں صحت کے کل بجٹ کا صرف دو فیصد حصہ ہی ذہنی صحت پر خرچ کیا جاتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے بھی ’ذہنی صحت کے عالمی دن‘ کے موقع پر اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ دنیا بھر میں ہر چار میں سے ایک شخص کو کسی نا کسی مرحلے پر ذہنی علاج درکار ہے۔ اس رپورٹ میں بھی یہ اعتراف کہا گیا کہ نفسیاتی مسائل کے شکار افراد کا 85 فیصد متعلقہ طبی سہولتوں سے محروم ہے۔

ڈبلیو ایچ او نے اپنی سالانہ رپورٹ میں دنیا بھر میں حکومتوں سے درخواست کی ہے کہ ذہنی امراض کا شکار افراد کے علاج کے لیے سہولتوں میں اضافہ کیا جائے۔

XS
SM
MD
LG