رسائی کے لنکس

کیا پاکستان اپنی سرزمین پر کسی مشترکہ فوجی کارروائی کی اجازت دے سکتا ہے؟


پنجاب کے علاقے حافظ آباد میں دہشت گردی کے خلاف سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں پکڑے جانے والے مشتبہ افراد اور گولا بارود

ایسا اقدام بہت دانمشندانہ ہوگا۔ امریکہ، بھارت اور افغانستان کے تحفظات دور اور پاکستان کے نقصانات اور اخراجات تقسیم ہوں گے۔ لیکن، سیاسی اور عسکری قیادت شاید اندرونی دباؤ کی وجہ سے گریز کرے

اسد حسن

ایسے میں جب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان کے اندر مبینہ پناہ گاہوں کے خلاف سخت اقدامات کا اعادہ کر چکے ہیں اور اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات بظاہر کشیدہ ہیں، کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے کوئی ’’آوٹ آف باکس‘‘ حکمت عملی نقشہ تبدیل کر سکتی ہے۔ اور اس وقت امریکہ کا جھکاؤ اگر بھارت اور افغانستان کی طرف ہے تو پاکستان ایک بار پھر خطے میں عسکریت پسندی کے خاتمے میں مرکزی اہمیت حاصل کر سکتا ہے۔

کامران بخاری ’سنٹر فار گلوبل پالیسی‘ اور جارج واشنگٹن یونیورسٹی سے وابستہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر پاکستان اس بات پر راضی ہو جائے کہ وہ عسکریت پسند گروپوں کے خلاف کاروائی میں نیٹو کی چھتری تلے امریکہ اور دیگر ممالک کی فورسز کو بھی ساتھ رکھیں تو پاکستان کے لیے اس میں بے شمار فوائد ہیں۔ یہ الزام بند ہو جائے گا کہ پاکستان عسکریت پسند گروپوں کے خلاف کارروائی میں امتیاز روا رکھتا ہے اور حقانی نیٹ ورک جیسے گروپوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رکھی ہیں۔ اسی طرح، پاکستان کے اخراجات بھی کم ہوں گے۔ وہ نہیں سمجھتے کہ اس سے پاکستان کی خودمختاری پامال ہوگی۔ ان کے بقول، مشترکہ کاروائیوں میں امریکی یا بین الاقوامی آپریٹیوز کو پابند کیا جا سکتا ہے کہ وہ پاکستان کی کمان میں کام کریں گے۔

کامران بخاری سمجھتے ہیں کہ تناؤ کی اس کیفیت میں وزیر خارجہ خواجہ آصف کی امریکہ میں طویل موجودگی اور مصروفیات سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ’’میز پر بہت آپشنز موجود ہیں‘‘۔

سیدہ عابدہ حسین، پاکستان کی سینئر سیاستدان اور سابق سفیر ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ مشترکہ فوجی آپریشن کے فوائد ہیں۔ لیکن، پاکستان شاید ہی اس کی اجازت دے۔ تاہم، وہ افغانستان میں نیٹو فورسز کی کسی بڑی کامیابی کی مثال نہ ہونے پر تشکیک بھی رکھتی ہیں کہ ایسا کوئی مشترکہ آپریشن پاکستان میں کیسے کامیاب ہو سکتا ہے۔ وہ سمجھتی ہیں کہ پاکستان کی فوج نے تن تنہا بہت کامیاب کارروائیاں کی ہیں یہی وجہ ہے کہ آج ملک پہلے کی نسبت کہیں زیادہ محفوظ ہے۔

بریگیڈیر (ر) سعد محمد دفاعی تجزیہ کار ہیں۔ انہوں نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کبھی اپنی سرزمیں پر مشترکہ فوجی کاروائی کی اجازت نہیں دے گا اور افغانستان یا بھارت کے ساتھ تو بالکل نہیں۔ ان کے خیال میں پاکستان کی فوجی اور سیاسی قیادت پر اس حوالے سے اندرونی دباؤ بھی بہت ہوگا اور صورتحال کا فائدہ انتہائی دائیں بازو کی مذہبی جماعتیں اٹھا سکتی ہیں۔

تاہم، وہ یہ ضرور کہتے ہیں کہ پاکستان کو صدر ٹرمپ کے بیان کے بعد ایسے اقدامات ضرور کرنے چاہیں جس سے امریکہ اور اتحادی ملکوں کی تشفی ہو۔ ان کے بقول، افغان طالبان کے ایسے دھڑوں تک ضرور پہنچنا چاہیے تو مذاکرات کے حامی ہیں، اس طرح ان کو جنگ پر بضد گروپوں سے الگ کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان کے وزیر داخلہ احسن اقبال اور وزیر خارجہ خواجہ آصف نے اپنے حالیہ بیانات میں کئی بار باور کرایا ہے کہ دہشتگردی ایک مشترکہ مسئلہ ہے اور اس کا حل عالمی اشتراک سے ہونا چاہیے۔ تاہم، پاکستان ملک کے اندر ڈرون حملوں یا کسی طرز کے سرجیکل حملوں کے امکانات کو بھی سخت انداز میں مسترد کرتا ہے اور اسے پاکستان کی سالمیت کے منافی خیال کرتا ہے۔

مزید تفصیلات اس آڈیو میں:

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG