رسائی کے لنکس

logo-print

شدت پسندوں کے خلاف مشترکہ آپریشن کا فیصلہ


صوبائی وزیراطلاعات میاں افتخار حسین

رواں سال کے آغاز ہی سے صوبہ خیبر پختونخواہ اور قبائلی علاقوں میں عسکریت پسندوں کے پر تشدد حملوں میں تیزی آنے کے بعد صوبائی حکومت نے پولیس اور نیم فوجی دستوں کے ساتھ مل کر جنجگوؤں کے خلاف مشترکہ کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

خیبر پختونخواہ کے وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے وائس آف امریکہ سے خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں سے بچنے کے لیے شدت پسندوں نے قبائلی علاقوں اور ان سے ملحقہ اضلاع میں پناگاہیں بنا رکھی ہے۔

’’گذشتہ دنوں میں (شدت پسندی) کے واقعات اس وجہ سے زیادہ ہوئے کہ جب قبائلی علاقوں میں کارروائی ہوتی رہی تو ان لوگوں نے ملحقہ اضلاع میں فرار ہو کر پناہ حاصل کی، اور جب ان اضلاع میں آپریشن کیا گیا تو وہ قبائلی علاقوں کی جانب بھاگ گئے۔ لہذا ضرورت اس بات کی محسوس کی گئی کہ دونوں طرف بیک وقت کارروائی ہو تاکہ (دہشت گرد) چھپ نا جائیں اور بھاگ نا جائیں‘‘۔

صوبہ خیبر پختونخواہ کے مختلف شہروں اور پشاور سے ملحقہ قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں رواں سال اب تک ہونے والے تشدد کے واقعات میں 26 سکیورٹی اہلکار اور 50 سے زائد شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز کی کاروائیوں میں درجنوں جنگجو بھی مارے گئے۔

تشدد کے ایک تازہ ترین واقعہ میں پشاور میں مسلح افراد کی فائرنگ سے ناصر باغ کے علاقے میں مقامی تھانے کا انچارج ہلاک اور دو اہلکار زخمی ہو گئے تھے۔

صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کو کسی علاقے تک محدود نہیں رکھا جائے گا بلکہ بنوں، ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان قبائلی علاقوں سے ملحقہ ان تمام اضلاع اور فاٹا میں کارروائی کی جائے گی جہاں عسکریت پسند سرگرم ہیں۔

XS
SM
MD
LG