رسائی کے لنکس

پاک فوج کا داعش کا انفراسٹرکچر ناکام بنانے کا دعویٰ


آئی ایس پی آر کے مطابق ضلع مستونگ کے علاقے اسپیلینجی کے پہاڑیوں کوہِ سیاہ اور کوہِ ماران میں کالعدم لشکر جھنگوی العالمی کے دہشت گرد ایک غار میں روپوش تھے

پاکستانی فوج نے بلوچستان میں عالمی دہشت گر د تنظیم داعش کا بنیادی ڈھانچہ (انفراسٹر کچر) قائم کرنے کی کوشش ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کی طرف سے میڈیا کو گزشتہ ہفتے بلوچستان کے علاقے مستونگ میں کی جانے والی سکیورٹی فورسز کے ایک بڑے آپریشن کی تفصیلات جاری کی گئی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق تین روز تک جاری رہنے والی کارروائی میں دو خودکش بمباروں سمیت ایک درجن دہشت گردوں مارے گئے تھے۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جمعرات کو جاری کیے جانے والے ایک بیان کے مطابق ضلع مستونگ کے علاقے اسپیلینجی کے پہاڑیوں کوہِ سیاہ اور کوہِ ماران میں کالعدم لشکر جھنگوی العالمی کے دہشت گرد ایک غار میں روپوش تھے اور وہاں سے داعش سے رابطوں اور بلوچستان میں شدت پسند تنظیم کا نیٹ ورک قائم کرنے کی کو شش کررہے تھے۔

بیان کے مطابق دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر یکم سے تین جون تک کاروائی کی گئی اور تقر یباً دس کلو میٹر پر محیط علاقے کو دہشت گردوں سے صاف کیا گیا۔

کارروائی کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں دو خو دکش بمباروں سمیت 12 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ آپریشن کے دوران سیکورٹی اداروں کے دو افسران سمیت پانچ اہلکار زخمی بھی ہوئے۔

بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ماہ مستونگ میں سینیٹ کے ڈپٹی چیئر مین اور جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مولانا عبدالغفور حید ری پر ہونے والے حملے کےلیے خودکش بمبار بھی شدت پسندوں کے اسی کیمپ سے بھیجاگیا تھا۔

گزشتہ ماہ ضلع مستونگ میں مو لانا حید ر ی پر اس وقت خود کش حملہ کیا گیا تھا جب وہ ایک مقامی مدرسے میں ہونے والی تقریب میں شرکت کے بعد واپس جارہے تھے۔ اس حملے میں 28 افراد ہلاک ہوگئے تھے جس کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔

سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران شدت پسندوں کے زیرِ استعمال غاروں سے آئی ای ڈی (دیسی ساختہ بم) بنانے کا سامان اور اسلحہ و گولہ بارود کا ذخیرہ بھی برآمد ہوا ہے جس میں 50 کلوگرام بارودی مواد،تین خودکش جیکٹس،18 گرنیڈ اور 6 راکٹ لانچر، اور مواصلاتی رابطے کے آلات شامل ہیں۔

تجزیہ نگار امان اللہ شادیزئی نے وی او اے سے گفتگو کے دوران مستونگ میں سکیورٹی فورسز کی کاروائی کو سراہا اور کہا کہ بعض ممالک پاک چین اقتصادی راہداری کو نا کام بنانے کےلیے داعش کو استعمال کرنے کی کو شش کر رہے ہیں۔

ان کے بقول اس کارروائی کے نتیجے میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ داعش ختم ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستونگ کا پہاڑی علاقہ دہشت گردوں کے لیے زیادہ مفید ہے کیونکہ وہ آسانی سے ایک سے دوسری جگہ اپنے ہدف پر پہنچ سکتے ہیں۔

امان اللہ شادیزئی کا مزید کہنا تھا کہ سکیورٹی اداروں کی بلوچستان میں یہ کاروائی نہ تو پہلی تھی اور نہ آخری ہو سکتی ہے اور احتمال موجود ہے کہ یہ کاروائیاں تسلسل سے اور وقفے وقفے سے ہوتی رہیں گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG