رسائی کے لنکس

logo-print

دودھ کے تقسیم غذائی قلت دور کرنے اور بچوں کو تعلیم کی طرف راغب کرنے کا منصوبہ


اسلام آباد میں منعقدہ تقریب سے وفاقی وزیر تعلیم خطاب کررہے ہیں

دودھ پیدا کرنے والے دنیا کے پانچویں بڑے ملک پاکستان نے ایک منصوبہ شروع کیا ہے جس کا مقصد نہ صرف غربت کا شکار بچوں کی غذائی قلت کو دور کرنا بلکہ انھیں تعلیم کی طرف راغب بھی کرنا ہے۔

عالمی بینک کے تعاون سے کام کرنے والے پاکستان غربت مٹاؤ فنڈ نے ابتدائی طور پر ضلع رحیم یار خان کے 40منتخب اسکولوں میں یہ تجربہ کیا اور سرکاری عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اس سے نہ صرف بچوں میں پڑھائی کا رجحان بڑھا ہے بلکہ ا سکولوں میں داخلے کی شرح میں 80فیصد تک اضافہ بھی ہوا ۔

منصوبے سے منسلک اعلیٰ عہدیدار نصیر الدین ہمایوں نے وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں کہا کہ بچے کو اگر روزانہ ایک ڈبہ دودھ کا دیا جائے تو مفلسی کے مارے والدین یقینی طو ر پر اپنے بچوں کو پڑھائی کے لیے سکول بھیجیں گے اور اس طرح ایک صحت مندانہ پڑھی لکھی نسل پروان چڑھے گی۔

انھوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر تقریباََ دو کروڑ روپے لاگت سے 6000بچوں کو چھ ماہ تک روزانہ ایک، ایک ڈبہ دودھ دیا گیا اور اب یہ منصوبہ پاکستان کے 25پسماندہ ترین اضلاع کے ا سکولوں تک بڑھایا جائے گا۔ منصوبے کے تحت بچوں کو روزانہ دودھ فراہم کر کے ایک خاص مدت کے بعد ان کے خون کے نمونے بھی لیے جاتے ہیں تاکہ سائنسی بنیادوں پر اس بات کا تعین کیا جائے کہ ان کی جسمانی صحت میں کس حد تک بہتر ی آئی ہے۔

ایک اندازے کے مطابق اس وقت پاکستان میں 30فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں۔

نصیر الدین ہمایوں نے بتایا کہ ”سکول مِلک پروگرام“ سب سے پہلے 1960ء کی دہائی میں جاپان، میکسیکو اور کینیا میں شروع ہوا تھا جو اس وقت دنیا کے 50سے زائد ملکوں میں کا میابی سے جاری ہے ۔

تعلیم کے وفاقی وزیر سردار آصف احمد علی کا کہنا ہے کہ بچوں کو روزانہ دودھ کی فراہمی سے ان کو پڑھائی کے دوران اکتاہٹ کا احساس نہیں ہو گا اور ان کی توانائی برقرار رہے گی۔

XS
SM
MD
LG