رسائی کے لنکس

logo-print

لاپتا بلاگرز پر مقدمات قائم کرنے کی خبروں میں ’قطعاً صداقت نہیں‘: وزیر داخلہ


انسانی حقوق کے ایک سرگرم کارکن جبران ناصر نے کہا کہ توہین مذہب کا الزام پاکستان میں انتہائی حساس معاملہ ہے اور اُن کے بقول محض ایسے الزامات پر کئی لوگوں کی جانیں گئیں۔

پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے لاپتا ہونے والے سماجی کارکنوں پر مقدمات قائم کرنے سے متعلق میڈیا رپورٹس خصوصا سوشل میڈیا پر جاری ’’پراپیگنڈے‘‘ کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ ایسی خبروں میں ’’قطعاً کوئی صداقت نہیں‘‘۔

وزیر داخلہ نے ایک بیان میں کہا کہ ’’ایسی خبریں مضحکہ خیز اور غیر سنجیدہ ہیں اور بعض عناصر کی جانب سے اس معاملے میں غلط معلومات کی تشہیر کا مقصد معاملے کو مزید الجھانا ہے۔‘‘

بیان میں کہا گیا کہ منفی ’’پراپیگنڈے اور غلط معلومات کی تشہیر ایسے عناصر کی بے حسی کا واضح ثبوت ہے۔ شاید ان کو اس بات کا احساس نہیں کہ ان کے ایسے عمل سے کرب میں مبتلا خاندانوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گا۔‘‘

واضح رہے کہ لاپتا افراد کے خلاف سوشل میڈیا پر حالیہ دنوں میں ایسی خبریں سامنے آئی ہیں جن میں یہ الزام عائد کیا جاتا کہ لاپتا ہونے والے افراد ’’توہین مذہب‘‘ کے مرتکب ہوئے۔

پاکستان کے دو مختلف شہروں اسلام آباد اور لاہور سے رواں ماہ لاپتا ہونے والے سرگرم کارکنوں کے اہل خانہ نے بھی رواں ہفتے ایک نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ اُن کے گمشدہ عزیزوں کے بارے میں توہین مذہب کے جو الزامات لگائے جا رہے ہیں درست نہیں ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ اس طرح کے الزامات سے نا صرف لاپتا افراد بلکہ اُن کے اہل خانہ کے لیے خطرات مزید بڑھ گئے ہیں۔

انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کے حق میں آواز بلند کرنے والے پانچ کارکنوں میں سلمان حیدر، وقاص گورایہ، عاصم سعید، احمد رضا نصیر اور ثمر عباس شامل ہیں۔

سلمان حیدر کے بھائی اور وقاص گورایہ کی اہلیہ نے اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ وہ اپنے عزیزوں کی سلامتی کے بارے میں بہت فکر مند ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ ہمارے لاپتا رشتہ داروں کا اس قابل اعتراض اور نفرت انگیز مواد سے کوئی تعلق نہیں ’’جس کا انھیں سوشل میڈیا یا میڈیا پر ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔‘‘

اُن کا کہنا تھا کہ گمشدہ سرگرم کارکنوں کے خلاف ایسی مہم بھی سامنے آئی جس میں یہ الزامات عائد کیے جا رہے ہیں کہ لاپتا ہونے والے کارکن توہین مذہب کے مرتکب ہوئے اور اُن کے بقول اس سے نا صرف لاپتا افراد بلکہ اُن کے اہل خانہ کے لیے خطرات بہت بڑھ گئے ہیں۔

نیوز کانفرنس میں موجود انسانی حقوق کے ایک سرگرم کارکن جبران ناصر نے کہا کہ توہین مذہب کا الزام پاکستان میں انتہائی حساس معاملہ ہے اور اُن کے بقول محض ایسے الزامات پر کئی لوگوں کی جانیں گئیں۔

’’ جو جو اس فہرست میں شامل ہوتا چلا جا رہا ہے، اس کے اوپر توہین رسالت کے الزام لگائے جا رہے ہیں اس کی وجہ سے نا صرف ان لوگوں کی جان کو خطرہ ہے جو اب تک بازیاب نہیں ہو سکے، کیونکہ آپ سب جانتے ہیں کہ جب کسی پر ایسے الزام لگتے ہیں اس کا کوئی ثبوت ہو یا نا ہو لوگ اس پر اشتعال میں آتے ہیں اور ان الزامات کی وجہ سے مزید ہراساں ہو رہے ہیں۔۔۔ ان خاندانوں کی زندگیوں کو مزید نقصان پہنچایا جا رہا ہے خطرے میں ڈالا جا رہا ہے ان کو بھی دھمکیاں آ رہی ہیں‘‘۔

سلمان حیدر کے بھائی فراز حیدر نے کہا کہ اُن کے بھائی ’راسخ العقیدہ مسلمان‘ ہیں اور حکومت اُن پر لگائے گئے الزامات کا نوٹس لے۔

’’ ہماری یہ گزارش ہے کہ جو اس حوالے سے پروپیگینڈا کیا جا رہا ہے اس سے نا صرف یہ کہ جو اپنی جگہ پر لاپتا ہیں اُن کو بلکہ ہم سب لوگوں کے لیے یہ خطرے کا باعث بنا رہا ہے۔‘‘

وقاص گورایہ کی اہلیہ میشا سعید کا کہنا تھا کہ اُن کے شوہر پر توہین مذہب سے متعلق جو الزامات لگائے جا رہے ہیں وہ بے بنیاد ہیں۔

’’وقاص ایک ترقی پسند اور بہت وسیع سوچ کے مالک ہیں اور میری جتنی بھی زندگی ان کے ساتھ گزری ہے میں بہت اچھی طرح سے جانتی ہوں اور وقاص کے کبھی بھی اس طرح کے کسی بھی کام یا سرگرمی میں ملوث ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا‘‘۔

واضح رہے کہ اس سے قبل وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ہیومین رائیٹس کمیشن آف پاکستان کی چیئرپرسن زہرہ یوسف بھی کہہ چکی ہیں اس طرح کا الزام لگا کر لاپتا کارکنوں کی جان کو خطرے میں ڈالا گیا ہے۔

انسانی حقوق کی مقامی اور بین الاقوامی تنظیموں کے علاوہ قانون سازوں کی طرف سے بھی حکومت سے یہ مطالبات کیے جاتے رہے ہیں کہ گمشدہ کارکنوں کی جلد اور باحفاظت بازیابی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

گزشتہ ہفتے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ لاپتا ہونے والے کارکنوں کی بازیابی کے لیے جاری تفتیش میں پیش رفت ہوئی ہے اور اُنھوں نے اس توقع کا اظہار بھی کیا تھا کہ لاپتا ہونے والے افراد کو جلد بازیاب کروا لیا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG