رسائی کے لنکس

logo-print

جبری گمشدگیوں پر پاکستان کو تنقید کا سامنا ہو سکتا ہے: مبصرین


سینیٹر مشاہد حسین سید کا کہنا تھا کہ ریاستی اداروں میں انسانی حقوق سے متعلق ادراک اور معاشرے میں قانون کی بالادستی نہ ہونا جبری گمشدگیوں جیسے مسائل کی وجہ ہے۔

پاکستان میں جبری گمشدگیوں کے معاملے کو حالیہ چند برسوں سے غیر معمولی توجہ حاصل رہی ہے اور مقامی اور بین الاقوامی سطح پر اس کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے حکومت سے اس کے تدارک کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔

گزشتہ ستمبر میں لاپتا افراد سے متعلق صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل کے دو رکنی وفد نے پاکستان کا دورہ کیا اور اپنی رپورٹ میں تجویز دی کہ جبری گمشدی کو ایک جرم قرار دے کر اس میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ رپورٹ میں خفیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نگرانی اور احتساب کے لیے غیر جانبدار اور مضبوط ادارے بنانے پر بھی زور دیا گیا تھا۔

اس رپورٹ کو جینوا میں منگل کو ہونے والے کونسل کے 22 ویں اجلاس میں تبادلہ خیال کے لیے پیش کیا جائے گا۔ حکمران اتحاد میں شامل پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سیکرٹری جنرل اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے رکن مشاہد حسین سید کا وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہنا تھا کہ ریاستی اداروں میں انسانی حقوق سے متعلق ادراک اور معاشرے میں قانون کی بالادستی نہ ہونا جبری گمشدگیوں جیسے مسائل کی وجہ ہے۔

’’جو لوگ اقتدار میں ہیں جو طاقتور طبقے سمجھے جاتے ہیں جوکہ ریاستی ڈھانچے میں ہے جن کے تربیتی مراکز ہیں چاہے فوج کے ہوں یا سول میں ہو۔ چاہے خاکی ہوں یا مفتی ہوں ان میں انسانی حقوق سے متعلق لازمی تربیت ہو تاکہ انہیں آگاہی ہو۔ تاکہ جو لوگ کسی شخص یا گروہ سے ڈیل کر رہا ہو تو قانون کے تحت کرے اور خلاف ورزی پر اس کی سزا بھی ہے۔‘‘

انسانی حقوق کی تنظیمیں اور متاثرہ خاندان پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر ان جبری گمشدیوں میں ملوث ہونے کے الزامات لگاتے ہیں۔

عدالت اعظمیٰ کی جانب سے اس معاملے کا نوٹس بھی لیا گیا اور حکومت نے بھی عدالتی کمیشن بنایا مگر چند افراد کی بازیابی کے علاوہ لاپتا افراد کے مسئلے پر تسلی بخش پیش رفت نہ ہوسکی۔ لاپتا افراد میں بلوچستان کے قوم پرست اور شمال مغرب میں دہشت گردی میں ملوث مشتبہ افراد شامل ہیں۔

امریکہ میں قائم غیر جانبدار انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے پاکستان میں نمائندے علی دایان حسن کا کہنا ہے کہ جبری گمشدی کے معاملے کو صرف نعرے کے طور پر لیا جاتا ہے جبکہ اس کے حل کے لیے کوئی سنجیدہ اور موثر اقدامات نہیں لیے گئے۔

’’بہتر یہ ہے کہ حکومت پاکستان اپنے نظام انصاف کو دیکھے اور عدلیہ دیکھے کہ اس کی کارروائی کتنی ناقص رہی ہے اور کس طرح بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ پولیس اپنے آپ کو دیکھے۔ یہ پوری ریاست کا بحران ہے۔ اس کا جواب یہ نہیں کہ آپ جنگل کا راج لگا دیں گے کیونکہ ریاست قانونی طور پر کچھ نہیں کر سکتی اور ریاست لاقانونیت کو فروغ دے گی۔‘‘

پاکستان نے اب تک جبری گمشدگیوں پر بین الاقوامی کنونشن کی توثیق نہیں کی جس وجہ سے مبصرین کے مطابق اس مسئلے کے حل سے متعلق اسلام آباد کے اب تک لیے گئے اقدامات کو غیر سنجیدگی سے دیکھا جاتا ہے اور ملک کو بین الاقوامی فورمز پر لاپتا افراد کے مسئلے پر جواب دہ ہونا پڑے گا۔
XS
SM
MD
LG