رسائی کے لنکس

کہیں غلط تصویر دکھانے کا مسئلہ اصل تصویر سے بڑا نہ ہو جائے


پاکستان کی مستقل مندوب کی طرف سے یقینی طور پر ایک بڑی غلطی ہوئی ہے اوراقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب کو تقریر سے پہلے اپنے مواد کا نہایت باریک بینی سے جائزہ لینا چاہئیے تھا۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی کی طرف سے کشمیر میں بھارتی مظالم کا ذکر کرتے ہوئے غلط تصویر دکھانے کے بعد غلطی تسلیم کرنے اور اس کا ازالہ کرنے کے بجائے پاکستان کی وزارت خارجہ نے مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے جس سے خطرہ ہے کہ پاکستانی مشن کی طرف سے کی جانے والی کوششوں پر پانی پھر سکتا ہے۔

بوسٹن یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر عادل نجم نے ایک خصوصی گفتگو میں ہمیں بتایا کہ پاکستان کی مستقل مندوب کی طرف سے یقینی طور پر ایک بڑی غلطی ہوئی ہے اوراقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب کو تقریر سے پہلے اپنے مواد کا نہایت باریک بینی سے جائزہ لینا چاہئیے تھا۔ عادل نجم کا کہنا ہے کہ یہ دور انٹرنیٹ کا دور ہے اور انٹرنیٹ پر ظاہر ہونی والی تمام چیزیں لازمی طور پر درست نہیں ہوتیں۔ مثلاً انٹرنیٹ پر چند اشعار فیض احمد فیض کی تصویر کے ساتھ شائع ہوتے آئے ہیں جو یقینی طور پر فیض کے نہیں ہیں۔ لیکن چونکہ یہ اشعار طویل عرصے سے فیض صاحب کی تصویر کے ساتھ شائع ہوتے رہے ہیں، لوگ اُنہیں فیض صاحب کے اشعار سمجھتے ہیں۔ ملیحہ لودھی کی طرف سے دکھائی جانے والی تصویر کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ یہ تصویر کشمیری لڑکی کے بجائے غزہ کی ایک لڑکی کی ہے جو اسرائیل کی جانب سے حملے کے دوران زخمی ہو گئی تھی۔ تاہم انٹرنیٹ پر غلطی سے اسے کشمیری لڑکی کے حوالے سے بھی شائع کیا گیا ۔ عادل نجم کہتے ہیں کہ اس بات کے باوجود یہ غلطی اس سطح پر ایسی نہیں ہے جسے نظر انداز کر دیا جائے۔

جنرل اسمبلی میں بھارتی سفارتکار ڈاکٹر ملیحہ لودھی کی طرف سے غلط تصویر دکھانے کی نشاندہی کر رہی ہیں
جنرل اسمبلی میں بھارتی سفارتکار ڈاکٹر ملیحہ لودھی کی طرف سے غلط تصویر دکھانے کی نشاندہی کر رہی ہیں

عادل نجم کے مطابق سفیر ملیحہ لودھی کی بچت اس انداز میں ہوئی کہ اُن کا مواد اور بیانیہ بالکل درست تھا اور کشمیری نوجوانوں کی ایسی بے شمار تصویریں ہیں جنہیں بعد میں دکھا کر یہ واضح کیا جا سکتا ہے کہ اُن کا نقطہ نظر درست تھا۔ تاہم اس بارے میں پاکستان کی وزارت خارجہ اور نیو یارک میں پاکستانی مشن کی اس بارے میں مکمل خاموشی سے یہ ڈر پیدا ہو گیا ہے کہ کہیں غلط تصویر دکھانے کا مسئلہ اصل تصویر سے بڑا نہ ہو جائے۔

مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک میں سفیر کی خدمات انجام دینے والے مشتاق احمد مہر نے ہم سے بات کرتے ہوئے اس واقعے پر حیرت کا اظہار کیا اور کہا کہ سفیر کی سطح پر یہ نہایت ضروری تھا کہ ایسے مواد کا جس میں خاص طور پر تصویر جیسا بصری مواد شامل ہو، نہایت باریک بینی سے جائزہ لیا جانا چاہئیے تھا کیونکہ یہ تصویر نہ صرف ہندوستان میں دیکھی گئی بلکہ اقوام متحدہ کے رکن تمام ممالک میں اس غلطی کو نوٹ کیا گیا ۔ لہذا تصویر کو ہر قسم کے شک وشبہے سے بالا تر ہونا چاہئیے تھا۔ سفیر مشتاق احمد مہر نے اس حوالے سے اس بات پر بھی تنقید کی کہ سفارتی عملے کا انتخاب میرٹ پر کرنے کے بجائے سیاسی بنیادوں پر کیا جا رہا ہے جس سے پاکستانی سفارتخانوں کی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے۔

سفیر مشتاق مہر کا خیال ہے کہ اس غلطی کے اثرات وقت کے ساتھ ساتھ ہی ختم ہوں گے۔ تاہم مشن کو اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے اس کی تصحیح ضرور کرنی چاہئیے تھی۔

ہم نے نیو یارک میں پاکستانی مشن سے رابطہ کر کے اُن کا مؤقف جاننے کی کوشش کی لیکن اُن سے رابطہ ممکن نہ ہو سکا۔

بھارت کے معروف انگریزی اخبار ہندوستان ٹائمز نے لکھا ہے کہ پاکستانی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی کی طرف سے غلط تصویر دکھائے جانے کی نشاندہی سب سے پہلے بھارتی ذرائع ابلاغ نے کی اور پھر یہ معاملہ سوشل میڈیا پر اچھل گیا کہ کس طرح پاکستانی سفیر نے غلط تصویر دکھا کر بقول ہندوستان ٹائمز کے ’اپنے پراپیگنڈے‘ کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔ تاہم بھارتی اخبار نے واضح کیا کہ پاکستانی سفیر کی طرف سے تصویر کی اس غلطی کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہے کہ کشمیر میں پیلٹ گنز کا بے دریغ استعمال نہیں کیا گیا۔ اخبار نے 25 ستمبر کی اشاعت میں لکھا ہے کہ 2016 میں حذب المجاہدین کے برہان وانی کی ہلاکت کے بعد پانچ ماہ تک جاری رہنے والے کشمیری مظاہروں کے دوران لاتعداد لوگ بھارتی فوج کی طرف سے استعمال کی گئی پیلٹ گنوں سے زخمی ہوئے اور بہت سے بینائی سے محروم ہو گئے۔ اخبار کا کہنا ہے کہ پیلٹ گنوں کے زخم صرف جسمانی ہی نہیں تھے بلکہ ان کا نفسیاتی طور پر بھی بہت اثر ہوا اور بہت سے متاثرہ افراد ڈپریشن کا شکار ہو گئے۔ اخبار نے ہسپتالوں سے حاصل کئے گئے اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا کہ پیلٹ گنوں سے کم سے کم 6,000 کشمیری متاثر ہوئے جن میں 4 سے 18 سال تک کی لڑکیاں بھی شامل تھیں۔

بہر حال اپنی غلطی تسلیم کرنے اور اس کی تصحیح کرنے میں تامل انتہائی حیرت انگیز ہے اور تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پاکستان کی سفارتکاری کی ناکامیوں کا عندیہ دیتی ہے۔ ڈاکٹر ملیحہ لودھی ایک انتہائی ذہین اور تجربہ کار سفیر ہیں اور عادل نجم کا کہنا ہے کہ نیو یارک میں پاکستانی مشن بہت چھوٹا ہے جہاں سفارتی عملے کی بہت کمی ہے۔ لیکن یہ دلیل بھی اس غلطی کا جواز پیش نہیں کر سکتی۔ یہ ارباب اختیار کیلئے یقیناً لمحہ فکریہ ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG