رسائی کے لنکس

logo-print

"مُردوں کے نام پر بھی بینک اکاونٹس تھے"


سپریم کورٹ میں جعلی بینک اکاونٹس کیس کی سماعت ہوئی جس میں جے آئی ٹی نے دوسری پیش رفت رپورٹ پیش جمع کرائی اور عدالت کو بتایا کہ تحقیقات ابھی جاری ہیں، معاملہ جعلی اکاؤنٹس سے زیادہ پیچیدہ ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ چور مر جائیں گے لیکن ایک پیسہ نہیں دیں گے، چوروں نے ایسے اکاونٹس میں پیسہ رکھا تو نہیں ہوگا۔

جے آئی ٹی کی سربراہ احسان صادق نے کہا کہ رقوم نکلوا کر اکاونٹس بند کر دیے جاتے تھے جبکہ دو مُردوں کے بھی بینک اکاؤنٹس کھولے گئے۔

احسان صادق نے بتایا کہ سندھ حکومت ہمارے ساتھ تعاون نہیں کر رہی اور متعلقہ ریکارڈ فراہم نہیں کیا جارہا، تعاون کے لیے تحریری درخواست دینے کے باوجود سیکرٹری توانائی ہمارے ساتھ تعاون نہیں کر رہے۔

اس موقع پر سندھ حکومت کی جانب سے ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے عدالت سے ریکارڈ تلاش کرنے کے لیے چار ماہ کا وقت دینے کی درخواست کی، تاہم عدالت نے مہلت دینے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے ریکارڈ کی فوری فراہمی کا حکم دیا۔

چیف جسٹس نے خبردار کیا کہ کار سرکار میں مداخلت ہوگی تو کارروائی ہو گی۔ سندھ حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سندھ حکومت کی جانب سے تو تعاون کیا جارہا ہے۔ جے آئی ٹی نے 2008 سے 2018 تک 46 افراد کو دیئے گئے معاہدوں کی تفصیلات طلب کی ہیں۔

جسٹس اعجاز الااحسن نے کہا کہ کیا جعلی بینک اکاونٹس سے وابستہ کچھ لوگ مفرور ہیں۔ احسان صادق نے بتایا کہ سندھ حکومت کے کئی سرکاری افسران بیرون ملک منتقل ہوگئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ جعلی اکاونٹس سے 47 ارب روپے کی ٹرانزیکشنز سامنے آئیں اور 36 بے نامی کمپنیوں سے مزید 54 ارب روپے منتقل کیے گئے جب کہ اومنی گروپ کی متعدد کمپنیاں کیس سے منسلک ہیں۔

عدالت نے آئندہ سماعت پر آئی جی سندہ کو طلب کرلیا، کیس کی اگلی سماعت 26 اکتوبر کو کراچی میں ہو گی۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے 6 جولائی کو حسین لوائی سمیت 3 اہم بینکرز کو منی لانڈرنگ کے الزامات میں حراست میں لیا گیا تھا۔ ان کے خلاف درج ایف آئی آر میں انکشاف سامنے آیا تھا جس کے مطابق اس کیس میں بڑی سیاسی اور کاروباری شخصیات کے نام شامل تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG