رسائی کے لنکس

logo-print

برے دن گزر گئے، ملک معاشی استحکام کی طرف گامزن ہے: مشیر خزانہ


فائل فوٹو

پاکستان کے وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا ہے کہ ان کی حکومت آئندہ برس کے دوران نان ٹیکس کی مد میں دس کھرب روپے کی آمدنی کی توقع رکھتی ہے۔

اتوار کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین شبر زیدی کے ہمراہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ ٹیکسوں کے علاوہ دیگر مد میں خطیر آمدنی حاصل ہو گی۔

متوقع آمدنی کے ذرائع کی تفصیلات بتاتے ہوئے ڈاکٹر حفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ ملک کی بڑی ٹیلی کام کمپنیوں جاز، ٹیلی نور اور زونگ کے لائسنسوں کی تجدید سے 70 ارب روپے فی کمپنی وصول ہوں گے جو مجموعی طور پر 210 ارب روپے ہوں گے۔ اس کے علاوہ قدرتی گیس کے پلانٹس کی نجکاری سے بھی 300 ارب روپے وصول ہونے کی توقع ہے۔

مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ زر مبادلہ کا ریٹ موجودہ سطح پر برقرار رہنے کی صورت میں اسٹیٹ بینک کو مذید 400 ارب روپے کی آمدنی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ان تمام ذرائع سے حاصل ہونے والی نان ٹیکس آمدنی 10 کھرب سے تجاوز کرنے کی اُمید ہے اور اس سے حکومت نا صرف کچھ قرضے واپس کر پائے گی بلکہ عوامی بہبود کے متعدد منصوبے بھی شروع کیے جا سکیں گے۔

انکم ٹیکس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا کہ اس سال جولائی اگست میں گزشتہ برس کی اسی مدت کے مقابلے میں 15 فیصد زائد ٹیکس وصول کیا گیا ہے اور ٹیکس دہندگان کی تعداد 19 لاکھ سے بڑھ کر 25 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس تعداد میں مذید اضافے کی کوششیں جاری رہیں گی۔ جب کہ حکومت نے 2020 تک سرکلر قرضہ مکمل طور پر ختم کرنے کی منصوبہ بندی کر لی ہے۔

ڈاکٹر حفیظ شیخ کا مزید کہنا تھا کہ معیشت کے برے دن گذر گئے ہیں اور اب ملک اقتصادی استحکام کی جانب گامزن ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG