رسائی کے لنکس

logo-print

فاروق ستار کی پارٹی سربراہی کے خلاف الیکشن کمشن کا فیصلہ معطل


متحدہ قومی موومنٹ کے راہنما فاروق ستار، فائل فوٹو

علی رانا

اسلام آباد ہائی کورٹ نے متحدہ قومی موومنٹ(ایم کیو ایم) پاکستان کے راہنما فاروق ستارکی کنوینر شپ ختم کرنے سے متعلق الیکشن کمشن کا فیصلہ معطل کردیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامرفاروق نے فاروق ستارکو ایم کیو ایم کی کنوینرشپ سے ہٹانے سے متعلق الیکشن کمشن کے فیصلے کے خلاف درخواست کی سماعت کی۔

فاروق ستارکے وکیل بابرستار نے عدالت عالیہ کے روبرو موقف اختیار کیا کہ الیکشن کمشن کو ایم کیو ایم کی کنوینر شپ اور انٹرا پارٹی الیکشن سے متعلق فیصلے کا اختیار ہی نہیں تھا۔ اس لئے فیصلہ غیر قانونی قرار دیا جائے۔ کیس کی سماعت مکمل ہونے تک الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کیا جائے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے درخواست گزار کی اپیل پر الیکشن کمشن کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے فریقین سے جواب طلب کر لیا۔ کیس کی مزید سماعت 11 اپریل کو ہوگی۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے گذشتہ دنوں ایم کیو ایم بہادر آباد گروپ کے کنور نوید جمیل اورخالد مقبول صدیقی کی درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے فاروق ستار کو متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی کنوینئرشپ (سربراہی) سے ہٹا دیا تھا۔ فیصلے کی رو سے ایم کیو ایم بہادرآباد ہی اب ایم کیو ایم پاکستان ہوگی اورفاروق ستار کی سربراہی میں چلنے والی ایم کیو ایم پی آئی بی کی کوئی قانونی حیثیت نہیں رہی تھی۔

فاروق ستار نے الیکشن کمیشن میں کنور نوید جمیل اور خالد مقبول صدیقی کی درخواست کے خلاف الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار کو چیلنج کیا ہے۔ الیکشن کمیشن سے فیصلہ خلاف آنے پر فاروق ستار نے اب اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے اور اب اس معاملہ پر مزید کارروائی جاری ہے۔

ایم کیو ایم کے دو دھڑوں میں بٹ جانے سے پارٹی کو نقصان ہورہا ہے اور حالیہ سینیٹ الیکشن میں ایم کیو ایم چار نشستیں حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہوتے ہوئے بھی صرف ایک نشست حاصل کر سکی۔ دونوں گروپس کے درمیان تند وتیز بیانات آئے دن میڈیا کی زینت بنے رہتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG