رسائی کے لنکس

ملا منصور کا جعلی شناختی کارڈ بنانے میں ملوث اہلکاروں کو سزائیں


پاکستان کے وزیر داخلہ احسن اقبال (فائل فوٹو)

مئی 2016ء میں بلوچستان میں افغان طالبان کے امیر ملا اختر منصور ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہو گئے تھے اور انھوں نے ولی محمد کے نام سے پاکستان کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ حاصل کر رکھا تھا۔

پاکستان کے وزیر داخلہ نے سینیٹ کو ایک تحریری جواب میں بتایا کہ ملک کے جنوب مغربی صوبے بلوچستان میں ایک امریکی ڈرون حملے میں مارے جانے والے افغان طالبان کے راہنما ملا اختر منصور کو ولی محمد کے نام سے شناختی کارڈ جاری کیا گیا تھا۔

وزیر داخلہ کا تحریری جواب میں کہنا تھا کہ یہ شناختی کارڈ جاری کرنے والوں کے خلاف تحقیقات مکمل کر کے اُنھیں سزائیں بھی دی گئیں۔

سینیٹر فرحت اللہ بابر نے وزیر داخلہ سے سوال پوچھا تھا کہ بلوچستان میں مارے جانے والے افغان طالبان لیڈر کے قریب سے ملنے والے پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ سے متعلق تفتیش ہوئی یا نہیں اور اس کا کیا نتیجہ نکلا۔

اس پر وزیر داخلہ احسن اقبال نے اپنے تحریری بیان میں کہا کہ ملا منصور کے قریب سے ملنے والے پاکستانی شناختی کا نمبر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تصدیق کے لیے کوائف کا اندارج کرنے والے قومی ادارے ’نادرا‘ کو بجھوایا تھا۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ انکوائری سے یہ بات سامنے آئی کہ وہ کارڈ محمد ولی ولد شاہ محمد نام پر جاری کیا گیا تھا، جس کے بعد نادرا نے محکمانہ کارروائی کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی تجویز کی تھی۔

تحریری جواب میں سینیٹ کو بتایا گیا کہ انکوائری رپورٹ کے مطابق ایک اسسٹنٹ ڈپٹی ڈائریکٹر فیصل الدین کو نوکری سے برخواست کر دیا گیا جب کہ دیگر افراد کے خلاف بھی کارروائی ہوئی۔

یاد رہے کہ مئی 2016ء میں بلوچستان میں افغان طالبان کے امیر ملا اختر منصور ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہو گئے تھے اور انھوں نے ولی محمد کے نام سے پاکستان کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ حاصل کر رکھا تھا۔

اس انکشاف کے بعد کوائف کا اندراج کرنے والے پاکستان کے قومی ادارے ’نادرا‘ کی اہلیت اور جعل سازی سے شناختی کارڈ بنوانے کے عمل کے بارے میں سوالات اُٹھائے جانے لگے۔

جس پر اس وقت کے وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار نے تمام شناختی کارڈز کی دوبارہ تصدیق کرنے کا اعلان کیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG