رسائی کے لنکس

logo-print

بے نظیر قتل کیس: مشرف کو پیش نہ کرنے پر عدالت کی برہمی


انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے حج نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ مقدمے کے مرکزی ملزم پرویز مشرف کو آئندہ پیشی پر عدالت کے سامنے پیش کیا جائے۔

پاکستان کی سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے کی سماعت کرنے والی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کو عدالت میں پیش نا کرنے پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔

راولپنڈی میں انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج حبیب الرحٰمن نے منگل کو مقدمے کی سماعت کے آغاز پر ہی پولیس سے دریافت کیا کہ سابق فوجی صدر کو عدالت میں پیش کیوں نہیں کیا گیا۔

پولیس کا موقف تھا کہ سکیورٹی کے انتظامات مکمل نہ ہونے کے باعث پرویز مشرف کو عدالت میں پیش نہیں کیا جا سکا ہے

پرویز مشرف قوم پرست بلوچ رہنما نواب اکبر بُگٹی کے قتل کے مقدمے میں ان دنوں اسلام آباد میں اپنے فارم ہاؤس میں قید ہیں۔

سلامتی کے خدشات کے باعث انتظامیہ نے اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ کو سب جیل قرار دے کر سابق صدر کو وہیں رکھا ہوا ہے اور ان پر قائم مختلف مقدمات میں تفتیشی عمل کی کارروائیاں بھی وہیں ہوتی ہیں۔

تاہم انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے حج نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ مقدمے کے مرکزی ملزم پرویز مشرف کو آئندہ پیشی پر عدالت کے سامنے پیش کیا جائے۔ مقدمے کی آئندہ سماعت اب 30 جولائی کو ہو گی۔

سرکاری وکیل چوہدری اظہر نے عدالت کو بتایا کہ پرویز مشرف کو عدالت میں پیش نا کیے جانے کے سبب اس مقدمے کی کارروائی آگے نہیں بڑھ رہی ہے۔

پرویز مشرف مئی ہونے والے انتخابات سے قبل اپنی چار سالہ خود ساختہ جلاوطنی ختم کر کے مارچ میں وطن واپس آئے تھے جہاں اُنھیں سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو اور بلوچ قوم پرست بزرگ رہنما نواب اکبر بگٹی کے قتل سمیت ججوں کو نظر بند کرنے کے مقدمات کا سامنا ہے۔

جب کہ ملک کا آئین معطل کی پاداش میں ان پر غداری کا مقدمہ چلائے جانے سے متعلق بھی وفاقی حکومت نے تحقیقات کا حکم دے رکھا ہے۔

پرویز مشرف پر الزام ہے کہ اُنھوں نے 2007ء میں ملک میں ایمرجنسی نافذ کر کے چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری سمیت اعلیٰ عدلیہ کے لگ بھگ ساٹھ ججوں کو نظر بند کر دیا تھا۔

تاہم گزشتہ ماہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اعلٰی عدلیہ کے ججوں کی نظر بندی کیس میں سابق فوجی صدر کی ضمانت منظور کر لی۔
XS
SM
MD
LG