رسائی کے لنکس

logo-print

مشرف کا نام ’ای سی ایل‘ سے نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ


فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ غداری کا مقدمہ سننے والی خصوصی عدالت یہ کہہ چکی ہے کہ مشرف کسی بھی حراست میں نہیں اور ان کی نقل و حرکت پر کوئی پابندی نہیں۔

پاکستان کی ایک عدالت نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے خارج کرنے کے درخواست پر فیصلہ 31 مئی تک محفوظ کر لیا ہے۔

پرویز مشرف کا نام ان افراد کی فہرست میں شامل ہے جنہیں ملک سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔ انھوں نے اس فہرست سے اپنا نام خارج کروانے کے لیے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

درخواست کی سماعت کرنے والے دو رکنی بینچ نے جمعرات کو اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ اور درخواست گزار کے وکیل فروغ نسیم کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا جو اب ہفتہ کو سنایا جائے گا۔

عدالت کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ عدالت کو یہی بتایا گیا کہ ان کے موکل کے علاج کے لیے بیرون ملک جانا ضروری ہے اور عدالت انھیں جب بھی طلب کرے گی تو وہ واپس آجائیں گے۔

" سب سے اہم بات یہ ہوئی کہ میڈیکل رپورٹ میں صاف لکھا ہے کہ جنرل صاحب کی ریڑھ کی ہڈی میں فریکچر ہے جس کا علاج یہاں پاکستان میں نہیں ہو سکتا۔ اس میڈیکل رپورٹ کو وفاقی حکومت نے بھی نہیں جھٹلایا، سپریم کورٹ کا ایک فیصلہ موجود ہے کہ اگر ریکارڈ میں ایک میڈیکل رپورٹ ہے (جس سے انکار) نہیں کیا جاتا تو عدالت اس میڈیکل رپورٹ کے حساب سے اپنا فیصلہ دے گی۔"

اٹارنی جنرل نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ اگر پرویز مشرف ملک سے باہر چلے جاتے ہیں تو خدشہ یہی ہے کہ وہ واپس نہیں آئیں گے۔

فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ غداری کا مقدمہ سننے والی خصوصی عدالت یہ کہہ چکی ہے کہ مشرف کسی بھی حراست میں نہیں اور ان کی نقل و حرکت پر کوئی پابندی نہیں۔

سابق فوجی صدر گزشتہ سال تقریباً چار سالہ خودساختہ جلاوطنی ختم کر کے وطن واپس آئے تھے۔ ان پر سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو اور بزرگ قوم پرست رہنما نواب اکبر بگٹی کے قتل کے مقدمات کے علاوہ آئین کو معطل کر کے ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کے الزام میں غداری کا مقدمہ بھی چلایا جا رہا ہے۔

پرویز مشرف ان دنوں کراچی میں مقیم ہیں جہاں مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ان کی کمر میں شدید تکلیف کے باعث ڈاکٹروں نے انھیں باقاعدگی سے فزیوتھراپی کی ہدایت کی ہے۔
XS
SM
MD
LG